
لاہور: صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے کہا ہے کہ 3 بار وزیراعظم رہنے والے سے شورٹی بانڈ مانگا جارہا ہے، اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے،عمران خان کا سیاسی کھیل انتہائی قابل مذمت ہے، حکومت نے انسانی مسئلے پر بدترین ڈرامہ بازی کی ہے،حکومت انڈیمنٹی بانڈ کی آڑ میں تاوان لینا چاہتی ہے وزیراعظم این آر او نہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی لے سکتے ہیں۔جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ بدھ کو میاں نواز شریف کی علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے حوالے سے حکومتی فیصلہ آیا وہ ساری قوم کے سامنے ہے جبکہ اس فیصلے پر مسلم لیگ نے فیصلہ کیا تھاکہ ہم عدالت عالیہ کا دروازے کھٹکھٹائیں گے اور جمعرات کو روز لیگل ٹیم نے میری طرف پیش تیار کر کے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرانا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی صحت پر 20دن سے سنگدلی اور چھوٹے ذہن کے ساتھ وزیراعظم اور ان کے وزراء نے کھیل رچا رکھا ہے، وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں ملکی معیشت اور عوام کو تباہی کے دہانے پر ڈال دیا ہے اور ماضی کی حکومتوں سے حاصل سہولیات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے خالصتاً انسانی معاملے میں سیاسی ڈرامہ بازی کی ہے، جس پر سارا پاکستان رنجیدہ ہے جبکہ بدھ کے روزحکومت کی جانب سے میاں نواز شریف یا میری جانب سے ضمانتی بانڈ جمع کرانے کا کہا ہے اس پر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ حکومت ضمانتی بانڈ نہیں تاوان وصول کرنا چاہتی ہے اور عوام کو دھوکہ دینا چاہتی ہے کہ ہم نے میاں نواز شریف سے سات ارب روپے نکلوا لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کیا ہے اور یہ ہمیں ہرگز قبول نہیں ہے،عمران خان ایک انسانی مسئلے کو بھی سیاسی کر رہے ہیں جبکہ یہ ان کی بڑی بھول ہے کہ یہ تین لفظ کہ این آر او، نہ تو وہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ لے سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف انتہائی صبروتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، صحت اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، نواز شریف استقامت کرتے ہوئے اللہ پر توکل کررہے ہیں، نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر 6جولائی 2018کو عدالتی فیصلے پر لندن سے پاکستان سزا کاٹنے آئے اور نواز شریف نے اپنی علیل اہلیہ اور مریم نواز نے شدید بیمار والدہ کو چھوڑ کر اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئے، کیا اس وقت بھی کسی نے ضمانت بانڈ جمع کئے تھے، موجودہ حکومت انتہائی گھٹیاپن کی مثال ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص سے ضمانت بانڈ مانگا جا رہا ہے، جس نے پاکستان ساتویں ایٹمی قوت بنایا، جس شخص نے ملک سے 20,20گھنٹے کے اندھیرے ختم کئے اور12ہزار میگاواٹ بجلی صرف 4سالوں میں واپڈا کے حوالے کی، چائنہ سے سی پیک لے کر آیا اور 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اس نواز شریف سے یہ ضمانتی بانڈ مانگا جا رہا ہے جس پر کسی عدالت نے کوئی شرط بھی لگائی،میاں نواز شریف کے والد اور ان کے بھائیوں نے ملک میں لوہے کی انجینئرنگ کمپنی لگائی جس کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومیالیا گیا، جس پر 6ارب روپے بنکوں کے بمعہ سود کے ہماری جانب جمع کرایا گیا اور بینک والے کہتے ہیں کہ ملکی تاریخ میں کبھی بھی اس طرح کی ری پیمنٹ نہیں ہوئی ہے اور ہم نے ایک دھیلا بھی معاف نہیں کرایا جبکہ موجودہ حکومت میں کتنے لوگ بیٹھے ہیں جنہوں نے قرضے معاف کرائے ہیں، اس نواز شریف سے یہ ضمانتی بانڈ مانگ رہے ہیں، پوری قوم اس وقت نواز ریف کی صحت پر پریشان ہے لیکن یہ حکومت وقت صرف سیاست کیلئے پریشان ہے، انڈیمنئی بانڈ کا جواز نہیں ہے جبکہ نواز شریف کو طعنہ دیا جاتا ہے گھر کیوں منتقل ہوئے ہیں میں کہتا ہوں کہ نواز شریف کی صحت پر سیاست بند کریں، حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر کی جا کررہی ہے اور عمران خان کو کہتا ہوں کہ اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ساری ذمہ داری عمران خان پر ہو گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ایک وزیر نے ٹی وی پروگرام میں تسلیم کیا کہ نواز شریف کی صحت پر سیاست ہو رہی ہے جبکہ ان سے کہتا ہوں کہ وزراء دہرے معیار نہ اپنائیں، پورے ماحول میں زہر گھول رہے ہیں، جس کا ازالہ کرنا آسان نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا سابق وزیراعظم کے ساتھ دہرا معیار نہیں چلے گا، جہاں پرزلفی بخاری کا نام آدھے گھنٹے میں کس نے ای سی ایل سے نکلوایا۔ نواز شریف نے کہا کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہنا تھا کہ پرویز مشرف شدید بیمار ہیں اور علاج باہر ہو سکتا ہے لیکن اس وقت ایمنسٹی بانڈ کی کوئی شرط تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔(اح+م ا)




