بلاول بھٹو زرداری کا جے یو آئی (ف) کے دھرنے میں شرکت کا اشارہ
بہاولپور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلاول بھٹو زرداری نے جے یو آئی ف کے دھرنے میں شرکت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جے یو آئی کے دھرنے کا حصہ نہیں ہیں لیکن اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے فیصلے پر نظر ثانی کی تو ہم دھرنے میں شرکت کر سکتے ہیں، پہلے دن سے ہمارا موقف ہے دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے سلیکٹڈ حکومت ہر محاذ پر فیل ہو رہی ہے، عوام کہہ رہے ہیں ناکام حکومت کا بوجھ ہم کیوں اٹھائیں،فضل الرحمان نے نہیں کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہا وس جا کرانہیں گھسیٹیں گے ،
عمران خان حادثات پر استعفوں کی بات کیا کرتے تھے، امید ہے وزیراعظم اپنے وعدے کو پورا کریں گے،شیخ رشید کے دور میں ریلوے میں سب سے زیادہ حادثے ہوئے، کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے، عوام سمجھ رہے ہیں کشمیر پر سودا ہو گیا ہے، حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔اتوار کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے ٹرین حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کی عیادت کی اور انھیں پھول پیش کیے۔بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے شروع دن سے آزادی مارچ کی حمایت کی اور پہلے دن سے پیپلز پارٹی کا مقف رہا ہے
کہ ہم دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے، ہم اب جے یو آئی کے دھرنے کا حصہ نہیں ہیں لیکن اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے فیصلے پر نظر ثانی کی تو ہم دھرنے میں شرکت کر سکتے ہیں۔رحیم یار خان ٹرین حادثے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ٹرین حادثے شیخ رشید کے دور میں ہوئے ہیں، شیخ رشید کو واقعے کی تحقیقات تک فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سانحے کی تحقیقات کرائیں اور سانحے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے۔حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت معیشت اور سیاست سمیت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا
کہ حکومت پر تنقید یہ ہو رہی ہے کہ یہ ناجائز اور سلیکٹڈ حکومت ہے، سلیکٹڈ حکومت عوام کا خیال نہیں رکھتی بلکہ منتخب حکومت ہی عوام کا خیال رکھ سکتی ہے، حکومت عوام کا خیال رکھنے کے بجائے اور کاموں میں لگی ہوئی ہے۔وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے، عمران خان کشمیر کا سفیر بنتے ہیں اور کرتاپور راہداری کھول رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ فضل الرحمان نے نہیں کہا کہ وہ خود وزیراعظم ہاس جا کر وزیراعظم کو گھسیٹیں گے، مولانا صاحب نے کہا تھا کہ لاکھوں لوگ وزیراعظم کو نکالیں گے۔