افغانستان : فتح کے مظاہرے ، امریکا کے علامتی جنازے : کابل ایئر پورٹ پر طالبان کا کنٹرول

0 33

کابل :  افغانستان بھر میں طالبان اور عوام کے فتح کے مظاہرے ، امریکا کے علامتی جنازے ، ریلیاں نکالی گئیں، کابل ایئرپورٹ پر طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا، طیاروں ، ہیلی کاپٹروں کیساتھ تصویریں بنوائیں ، حکومت سازی کیلئے مشاورت بھی مکمل کرلی،جلد اعلان ہونے کا امکان ہے ،طالبان نے کہا یہ تاریخی دن ہے خود کو مسلط کرنے نہیں عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں، دوسری جانب امریکا نے سفارتی مشن قطر منتقل کردیا جبکہ امریکی صدر جو بائیڈ ن نے کہا داعش کی کمر توڑ دی، انخلا کی ڈیڈلائن گزرجاتی تو طالبان کو حملے کا جواز مل جاتا ۔تفصیلات کے مطابق امریکی انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ پر سکیورٹی کی ذمہ داری جدید اسلحہ اور دیگر فوجی آلات سے آراستہ طالبان کے بدری 313 یونٹ نے مکمل طورپر سنبھال لی،ایئرپورٹ پر اذان دی گئی، نماز شکر ادا کی گئی،طالبان کے اہم رہنماؤں نے کابل ایئرپورٹ کا دورہ کیااور تباہ شدہ ہیلی کاپٹرز اور دیگر سازوسامان کا جائزہ لیا اور طیاروں ہیلی کاپٹروں کے ساتھ تصاویر بنوائیں ،اس دوران غیرملکی صحافی بھی کوریج کیلئے موجود رہے ،طالبان کے بدری یونٹ کے ایک سپاہی نے اپنے پیغام میں کہا امریکیوں نے جاتے وقت جو سامان تباہ کیا ہے ، جلد ہی اس کی مرمت کی جائے گی،افغان قوم ہماری ہے ، اور ہم اس کی خدمت کیلئے یہاں موجود ہیں،ترجمان ذبیح اللہ مجاہد بھی حامد کرزئی ایئرپورٹ پہنچے جہاں انہوں نے تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے گفتگو کی،اپنے خطاب میں انہوں نے فتح پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہماری خواہش ہے دوبارہ کبھی ہمارے ملک پر حملہ نہ ہو، اپنے رہنماؤں کی ایمانداری، قربانی اور صبرکی وجہ سے آج ہم آزاد ہیں، ہم امن، خوشحالی اور مکمل اسلامی نظام چاہتے ہیں، افغانستان میں دنیا کے نصف ممالک شکست کھا گئے ہیں،امریکا کی شکست دوسرے ملکوں پر حملہ کرنے والوں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے ،مشکل وقت میں ساتھ د ینے اور بالخصوص افغان مہاجرین کو پناہ دینے پر پاکستان اور اس کے عوام کے شکر گزار ہیں،ذبیح اللہ مجاہد نے بدری 313 یونٹ کو ہدایت کی کہ طالبان جنگجو افغان عوام کے ساتھ اچھے اندازمیں پیش آئیں، عوام ہمدردی اور محبت سے پیش آنے کے حقدار ہیں،ان کا کہنا تھاکہ ہم افغان عوام کے ملازم ہیں، ہمیں خود کو ان پر مسلط نہیں کرنا،طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ جلد عوام کے درمیان ہوں گے اور حکومت سازی کا اعلان کریں گے ،انہوں نے کہا ملک میں مختلف گروہ ہیں،لڑنے والے لوگ افغانستان کے مفادات کے خلاف ہیں،تمام افغان عوام ملک اور مذہب کیلئے متحد ہوں، روشن مستقبل کیلئے افغان عوام متحد ہوجائیں، بین الاقوامی کمیونٹی کے اعتماد پر پورا اتریں گے ،ہماری ناکامی کی صورت میں حمایت کرنے والے ممالک اپنا ہاتھ اٹھا لیں گے ، افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری کولانے کیلئے سازگار ماحول مہیا کریں گے ، تمام افغان شہری نئی حکومت کا حصہ ہونگے ،انہوں نے کہا بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کی بنیاد پر تمام دنیا بالخصوص امریکا کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں،افغانستان مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے گا،طالبان رہنما انس حقانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج کا دن ہمارے لئے ، افغان قوم کیلئے اور پوری امت مسلمہ کیلئے بابرکت ہے ،یہ تاریخی دن ہے ،ہمیں اس پر فخر ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں،اس دن کیلئے ہم نے بہت جدوجہد کی، ایک طویل جنگ لڑی، آج کا دن آزادی کا دن ہے ،امریکا سے سفارتی تعلقات کے سوال پر انس حقانی نے کہا تمام ممالک سے بہتر سیاسی وتجارتی تعلقات کے ساتھ سفارتخانہ کھولنا چاہتے ہیں،ہم کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے ، چاہتے ہیں کوئی ہمارے ملک اورکام میں مداخلت نہ کرے ،افغان طالبان کی مذکراتی ٹیم کے رکن اور بین الاقوامی میڈیا کیلئے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ٹویٹ میں کہا طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے دوحہ میں افغانستان کے لئے کینیڈا کے مندوب ڈیوڈ ولیم سپراؤل سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان کی صورتحال اور کابل ایئرپورٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ،جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے وفدسے بھی ملاقات ہوئی ہے ۔ دریں اثنا ملک بھر میں تقاریب جلوس، ریلیوں اور مار چ کا اہتمام کیا گیا،امریکا اور نیٹو کے علامتی جنازے نکالے گئے ، قندھار میں قرآن خوانی کی گئی،علمائے کرام نے خطاب کیا،پکتیا،ہرات،گردیز میں طالبان کا بڑا فوجی مارچ ہوا،ننگر ہار میں بھی بڑا اجتماع ہوا،خوست میں بھی لوگوں نے اکٹھے ہوکر خوشی منائی اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے ،قندوز میں بھی اجتماع ہوا،علاوہ ازیں طالبان امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی صدارت میں قندھار میں ہونے والا رہبر کونسل کا تین روزہ اجلاس ختم ہو گیا،جس میں حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کرلیے گئے ،ملا عبدالغنی برادر قندھار سے کابل کیلئے روانہ ہو گئے ، نئی طالبان حکومت کا اعلان جلد متوقع ہے ،طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حوالے سے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کونسل کا 3 روزہ اجلاس طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی زیر صدارت قندھار میں ہوا جبکہ یہ اجلاس ہفتے کے روز سے پیر تک جاری رہا،اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان سے اچھے برتاؤ کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں نئی اسلامی حکومت اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے گئے ، سپریم لیڈر نے سب کو مکمل ہدایات دے دی ہیں اور ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کردیا ہے ۔حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمتیار نے غیرمشروط طور پر مستقبل کی اسلامی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔دریں اثنا افغانستان سے جنگ کے خاتمے کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے انخلاممکن بنانے پر کمانڈرز فوجیوں سفارتکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا داعش کے حملے میں ہلاک 13امریکی فوجیوں کا کوئی نعم البدل نہیں،داعش کی کمر توڑ دی، افغانستان سے امریکی انخلا غیرمعمولی کامیابی ہے ،انخلاکے فیصلے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی کیلئے 6ہزار فوجی بھیجے ،نوے فیصد امریکی شہری افغانستان سے نکال چکے ہیں،ہمیں یقین ہے 100سے 200امریکی شہری اب بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں ،ان کی مدد کی جائے گی،اپریل میں امریکی انخلا کا فیصلہ کیا، اس یقین پر کہ افغان حکومت ملک سنبھال لے گی،ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوجائیں گے ،افغانستان سے انخلاسول اور فوجی قیادت کا متفقہ فیصلہ تھا،افغانستان سے انخلا طالبان کی ڈیڈلائن نہیں طے شدہ منصوبے کے تحت کیا،جب اقتدار میں آیا تو طالبان سے 2020میں معاہدہ طے ہو چکا تھا،ٹرمپ طالبان معاہدے کے بعد صورتحال بدل چکی تھی ،امریکا غیرمعینہ مدت تک افغانستان میں رہ نہیں سکتا تھا،طالبان کے ساتھ معاہدہ تھا ، ڈیڈلائن گزر جاتی تو انہیں ہمارے فوجیوں پر حملے کا جواز ہوتا، افغانستان میں تیسری دہائی بھی گزارنا قومی مفاد میں نہیں تھا،انخلا میں دیر کرتے تو حالات پھر بھی خطرے سے خالی نہ ہوتے ،امریکیوں کی اگلی نسل کو ایسی جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے جو پہلے ہی ختم ہو جانی چاہیے تھی،امریکا کو روس اور چین کی جانب سے بہت سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے ، طالبان کے الفاظ پر یقین نہیں کریں گے ،ان کے عمل کو دیکھیں گے ،امید ہے طالبان وعدے پر قائم رہیں گے ۔امریکی وزیر خا رجہ انتھونی بلنکن نے پریس بریفنگ میں کہا افغانستان سے امریکی سفارتی مشن معطل کر کے قطر منتقل کر دیا ہے ، طالبان کے ساتھ مستقبل میں بات چیت امریکا کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو گی، تسلیم کیے جانے اور تعاون حاصل کرنے کیلئے طالبان کو مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے ، افغان جنگ 20 سال چلی لیکن اب بھی افغانستان کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، افغانستان کے عوام کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رہے گی، یہ امداد طالبان کو نہیں بلکہ این جی اوز کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی، افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہا طالبان کو اب افغانستان کو محفوظ اور خوش حال مستقبل کی طرف لے جانے کے امتحان کا سامنا ہے ۔پر امن و مستحکم افغانستان اور اس کے خوش حال مستقبل کیلئے ہماری نیک تمنائیں ہیں۔ادھر جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے پریس کانفرنس میں کہا جرمن فورسز کیساتھ کام کرنیوالے 10سے 40 ہزارمقامی عملہ اور ان کے خاندان کے افراد اب بھی افغانستان سے انخلا کی کوشش کر رہے ہیں،انہیں نکالنے کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار طالبان کی مرضی پر ہے ،جرمنی نے اپنے انخلا میں قریب 5300 افراد کو منتقل کیا ہے جن میں چار ہزار سے زیادہ افغان شہری ہیں۔کابل ایئرپورٹ کا کھلا رہنا انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر طبی یا انسانی بنیادوں پر امداد افغانستان نہیں پہنچ سکتی۔ انہوں نے کہا کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے ، کابل ایئرپورٹ کو آپریشنل رکھنے کیلئے جرمنی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے ، زمینی راستوں کے انخلا کیلئے افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کیساتھ بات چیت جاری ہے ، ہمسایہ ممالک کچھ ہچکچاہٹ کے شکار ہیں، انہیں قائل کرنے پر کام جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں یورپی یونین کی موجودگی کے امکانات کے حوالے سے وہ ان ممالک سے رابطے میں ہیں اور اس طرح طالبان سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں،طالبان سے رابطے عارضی ہیں اور یہ سفارتی منظوری کے برابر نہیں۔نیٹو سربراہ سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کو فعال رکھنا ضروری ہے تاکہ افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند لوگ ایسا کر سکیں،برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے خاتمے کیلئے برطانیہ طالبان کی حکومت کے ساتھ کیسے اور کب کام کرے گی،اس کا تعین ان وعدوں کی تکمیل پر ہوگا جو طالبان نے انسانی حقوق کے حوالے سے کیے ہیں،برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو میں کہا افغانستان سے جن برطانوی شہریوں اور افغانوں کو نہیں نکالا جا سکا، ان کی حقیقی تعداد کا علم نہیں، اپریل کے بعد سے 5 ہزار سے زائد برطانوی شہری افغانستان سے لائے گئے ، باقی رہ جانیوالے برطانویوں کی تعداد 200 سے کم ہے ۔چین کے ترجمان وزارت خارجہ نے بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان نے غیر ملکی فوجی قبضے سے خود کوآزاد کرا لیا ہے ، افغان عوام قومی امن اور تعمیر نو کے نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ افغانستان میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے ،انہوں نے کہا کہ کابل میں چینی سفارت خانہ فعال رہے گا، امید ہے کہ افغانستان میں ایک وسیع البنیاد نمائندہ حکومت قائم ہو گی، جوکہ پورے عزم کیساتھ ہر قسم کے دہشت گردقوتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی۔ کینیڈا نے افغانستان سے امریکی انخلاکے بعد 5 ہزار افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے ،کینیڈا نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے 20 ہزار مہاجرین کو قبول کرے گا۔کینیڈا کے وزیر امیگریشن کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان افغان شہریوں کے محفوظ باہر نکلنے کی ضمانت دی ہے جنہیں دوسرے ممالک سے سفر کی اجازت ہے ۔فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں اِیو لدریاں نے کہا فرانس کو طالبان پر دبائو ڈالنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے تاہم پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات نہیں کر رہی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.