افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ، آخری رخصتی کے تاریخی لمحات

0 30

کابل :  نائن الیون کے حملے کے بعد افغانستان میں شروع کی جانے والی جنگ کے خاتمے پر یہاں سے انخلا کرنے والے امریکا کے آخری فوجی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ، جن کا موازنہ 1989 میں سوویت یونین کی واپسی سے کیا جارہا ہے ۔برطانوی خبر رساں ادارے \’رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق ہاتھ میں رائفل تھامے کابل چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی، میجر جنرل کرس ڈوناہو ہیں، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن کے میجر جنرل ہیں، وہ افغانستان سے روانہ ہونے والی آخری امریکی پرواز میں سوار ہوئے ،سی-17 کی سائیڈ ونڈو سے نائٹ ویژن ڈیوائس سے لی گئی، سبز اور سیاہ رنگ کی تصویر میں امریکی جنرل کو کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر موجود طیارے کی جانب بڑھتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے ۔مذکورہ تصویر پینٹاگون نے افغانستان میں 20 برس تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے اور مکمل فوجی انخلا کے چند گھنٹے بعد جاری کی۔کابل چھوڑنے والے آخری امریکی فوجی کی تصویر کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جارہا ہے اور ان کا موازنہ 1989 میں افغانستان سے حتمی انخلا کے موقع پر لی جانے والی سوویت جنرل کی تصویر سے کیا جارہا ہے ۔اتحادیوں کی مدد سے ملٹری آپریشن مکمل کرنے کے بعد امریکا افغانستان سے ایک لاکھ 23 ہزار شہریوں کو نکالنے میں کامیاب ہوا اور امریکی فوجیوں کا آخری طیارہ رات کے اندھیرے میں کابل سے چلا گیا۔اگرچہ یہ ایک تصویر ہے مگر اس میں جنرل کرس ڈوناہو تیزی سے چلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کا چہرہ بے تاثر ہے ،انہوں نے مکمل جنگی ساز و سامان پہنا ہوا ہے ، ان کے ہیلمٹ کے اوپر نائٹ ویژن گوگلز موجود ہیں اور ان کے پاس رائفل بھی ہے ۔تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنرل کرس ڈوناہو کو اب افغانستان کو پیچھے چھوڑنا تھا اور محفوظ مقام تک پہنچنا تھا۔اس کے برعکس، افغانستان میں سوویت یونین کی 40 ویں فوج کے کمانڈر جنرل بورس گروموف کی تصاویر کو دیکھا جائے تو انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ آمودریا کے پل پر ہاتھ میں سرخ اور سفید پھولوں کو تھامے چلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔امریکا اور سوویت یونین کا افغانستان جیسے ملک سے انخلا، جسے اب سلطنتوں کے قبرستان کے طور پر جانا جاتا ہے ، بہت مختلف طریقوں سے ہوا لیکن انہوں نے کم از کم 1842 میں پہلی اینگلو افغان جنگ میں برطانیہ کو ہونے والی تباہ کن شکست سے گریز کیا،اس تنازع کی مستقل تصویر الزبتھ تھامسن کی آئل پینٹنگ ’’ایک آرمی کی باقیات‘‘ کے نام سے موجود ہے جس میں ایک تنہا تھکے ہوئے مسافر، ملٹری اسسٹنٹ سرجن ولیم برائڈن، کو خود سے بھی زیادہ تھکے ہوئے گھوڑے کی زین پکڑے کابل چھوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔جب روس کی فوج (ریڈ آرمی) نے افغانستان چھوڑا، ماسکو کی حمایت یافتہ کمیونسٹ حکومت اس وقت برسر اقتدار تھی اور اس کی فوج مزید 3 برس تک وہاں موجود تھی جبکہ امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت پہلے ہی ہتھیار ڈال چکی تھی اور امریکی فوجیوں کے انخلا کی 31 اگست کی حتمی ڈیڈلائن سے 2 ہفتے قبل ہی کابل پر طالبان نے قبضہ کرلیا تھا۔منظم طریقے سے انخلا کے باوجود روس کے جنرل بورس گروموف کے 50 ہزار فوجیوں کو کچھ حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ ازبکستان کی سرحد کی طرف گئے تھے حالانکہ انہوں نے سفر کو محفوظ بنانے کیلئے مجاہدین گروپوں کو ادائیگی کی تھی۔جنرل بورس گروموف نے 15 فروری 1989 کو دوستی پل پار کیا تھا جس سے افغانستان میں سوویت یونین کی 10سالہ جنگ کا اختتام ہوا تھا، اس دوران 14 ہزار 450 روسی فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ سوویت سرزمین پر واپس آنا کیسا لگا تو بورس گوموف نے جواب دیا تھا کہ خوشی ہوئی کہ ہم نے اپنا فرض ادا کیا اور گھر آگئے ، میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،تاہم کابل سے حتمی امریکی انخلا کو اس بنیاد پر دیکھا جائے کہ کتنے لوگوں کو باہر لایا گیا اور کتنے پیچھے رہ گئے ، جنرل کرس ڈوناہو اور ان کے ساتھی کابل میں افراتفری سے بھرپور آخری دنوں کی ہولناک یادیں ساتھ لے گئے ، جن میں والدین کو خاردار باڑوں سے بچوں کو گزارتے ، 2 افغان نوجوانوں کو آسمان میں اڑتے جہاز سے گرتے اور ان انتہائی تکلیف دہ مناظر کو دیکھا جب داعش نے 26 اگست کو ایئرپورٹ کے باہر خودکش بم حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں افغان اور 13 امریکی ہلاک ہوگئے تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.