40برسوں سے افغانستان کو قبرستان بنا دیا گیا ہے ، ایٹم بم کے علاوہ تمام اسلحہ کا تجربہ کیا گیاہے ، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ : پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان،ایران، چین سمیت دیگر ممالک افغانستان کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے تباہ حال افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، امریکہ کا طالبا ن سے براہ راست مذاکرات کرنا دراصل اسکی کست کا اعتراف تھا پاکستان،ایران اور چین کے خلاف ایک نئی جنگ کی خبریں آرہی ہیں خطہ مست سانڈوں کی ٹکر کا میدان نہ بنے، طالبا ن اسلامی ریاست کی بنیاد خواتین کو جائیدار میں حق دینے سے ڈالیں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد انتخابات کے ذریعے جو بھی مقبول ہوگا اسے اقتدار ملنا چاہیے،پاکستان کا مستقبل نواز شریف اور پی ڈی ایم سے ہے ملک کو آئین و جمہوریت کے ذریعے میں ہی اسکا بقاء ہے عدلیہ کا نظام اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے کمیشن میں پیش نہ ہوئے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کوکوئٹہ میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر سابق صوبائی وزراء نواب ایاز خان جوگیزئی، ڈاکٹر حامداچکزئی، رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رہنماء سید لیاقت آغا، ملک یوسف کاکڑ، عیسیٰ روشان، خوشحال خان کاکڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے بعد خطے میں حالات انتہائی گنجلگ،مشکل اور خطرنات ہیں ملک کے کرتا دھرتا، جج، جنرل، علماء سمیت ہر طبقہ افغانستان میں یکا یک تبدیلی کے بعد مخمسے کی حالت میں ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ کی طویل ترین لڑائی ہمارے پڑوسی ملک افغانستان میں لڑی گئی ہے جس کے خاتمے کے بعد توقع ہے کہ حالات درست سمت لیں گے اور افغان قوم کو امن نصیب ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایسے لوگوں پر محیط ہے کہ جو آزادی،استقلال اور وطن سے محبت رکھتے ہیں دنیابھر نے یہ تسلیم کیاہے کہ افغان قوم ملنسار،مہمان نواز،انسان دوست ہے مگر وہ اپنی آزادی کے معاملے پر حساس ہیں افغانستان چند ممالک میں سے ہے جو مغربی استعماری قوتوں کاغلام نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جمہوری نظام کی تشکیل امریکہ کی ذمہ داری تھی جو وہ پوری نہیں کرسکا امریکیوں نے یہ زیادتی کی کہ جولوگ امریکہ سے لڑ رہے تھے ان سے براہ راست مذاکرات اور وہاں کی منتخب حکومت کو نظر انداز کیاطالبان سے مذاکرات دراصل امریکہ کی شکست کا اعتراف تھا اور زلمے خلیل زاد کے ذریعے عین اسی طرح انخلاء اور مذاکرات کے عمل کو دوہرایا گیا جیسے ویت نام جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں سے پیرس میں معاہدہ کرکے راہ فرار اختیارکی تھی اور اپنے دوستوں کو چھوڑدیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ بیان دیا ہے کہ انہوں نے اپنی نیشنل سیکورٹی اورافغانستان کی سرزمین صرف امریکہ کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینے کیلئے وہاں جنگ کی اس خطے کے تمام ممالک کو امریکہ کے اس بیان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے پاکستان،افغانستان،چین،ایران کو اپنی سیکورٹی کا خود انتظام کرنا ہوگا اب ان ممالک کی عقل کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح کوشش کرتے ہیں کہ خطے کو مست سانڈوں کی ٹکر کا میدان نہ بننے دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورایران کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں افغانستان کے استقلال کا خیال اور بچاو میں کردارادا کرنا ہوگاایران پاکستان،چین کے خلاف ایک نئی جنگ کے طبل بج رہے ہیں اوریہ حالات جنرل نہیں سنبھال سکتے ہمیں پاکستان کی سالمیت عزیز ہے عقل سلیم کا تقاضا تھا کہ ایک گرینڈ مشاورتی اجلاس بلایا جاتا جس میں جج،جنرل،سیاستدان سمیت ہر طبقے کے لوگ ملک میں آئین کی بحالی کا اعلان کرتے اسوقت ملک میں آئین معطل ہے آئین پاکستان کے لئے اعلان اور جمہوری پاکستان کی تشکیل کا اعلا ن کیا جاتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوری پاکستان بنانے کیلئے نواز شریف سمیت تمام لوگوں کے ساتھ بیٹھیں اور جمہوریت کااعلان کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل میاں نواز شریف اورپی ڈی ایم سے منسلک ہے میاں نواز شریف نے صرف یہی کہا ہے کہ جس آدمی کا جو کام ہے وہ کرے جو آئین کو نہیں مانتے ہم انکے ساتھ نہیں چل سکتے اور انکے خلاف کھڑے ہونا چاہئے ہم نے کہا ہے کہ ملک کو آئین کے تحت چلایا جائے لگتا یوں ہے کہ ہمارے ہاں آئین کوماننے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے گر ایسا نہیں کیا جا تا تو نقصان آپکا ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ کا نظام اتنا کمزورہوچکا ہے کہ اگر باحیثیت اور پیسے رکھنے والا شخص کسی کی ناموس پر بھی دعویٰ کردے تووہ جیت جائے گا ایسی عدلیہ کے پاس کون جائے گا اس لئے عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن میں پیش نہیں ہوئے اور خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے جو بیان دیا آج تک اسکی سزا بھگت رہاہے ہم ملک میں عدل چاہتے ہیں لیکن عدل مقفودہے۔انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور ارگرد میں جو کچھ ہوا اس سے محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے ادارے جس کام کیلئے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنا کام نہیں کر رہے کوئٹہ بارہ گلیوں کا شہر ہے سریناہوٹل سمیت صبح و شام دھماکے ہورہے ہیں ہماری ایجنسیاں قابل ہیں وہ اپنا کام کریں اور امن وامان کی صورتحال کو سنبھالیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ قانون ہے کہ کسی ملک سے ہجرت کرکے آنے والوں کو نہیں روکا جاتاافغانستان میں تباہی ہے لوگ خوف سے یہاں آرہے ہیں انہیں آنے دیا جائے لوگوں کو راستہ دیں ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگ پشاور جانا چاہتے تھے اورانہیں کراچی بھیج دیا گیاانہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار شخص کے منہ سے سنا ہے کہ چھ ماہ بعد کوہ ہندوکش میں سالنگ پاس سے آگے ترکستان کے نام سے ایک نئے ملک کی تشکیل کا اعلان ہوگا اور پشتونوں کا بھی ایک الگ خطہ بنے گا اگرایسے اقدامات کئے گئے تو پاکستان اورافغانستان ٹوٹ جائیں گے اور پھر بات ہندوستان تک جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران چین،پاکستان ملکر افغانستان کی خودمختاری کی ضمانت دیں اوراسکی تشکیل نو کریں طالبان مہربانی کریں افغان زخمی ملک ہے وہاں پہلے سے جو جھنڈا ہے اس میں بھی کلمہ لکھا ہے طالبان انٹرافغان ڈائیلاگ پشتون افغان جرگہ بلائیں جس میں تمام لوگ ملکر کچھ وقت کیلئے عبوری حکومت بنائیں اسکے بعد انتخابات کروا کر جو مقبول ہوگا وہی انتخابات جیت کرحکومت بنالے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کی وجہ سے افغانستان کھنڈرات میں تبدیل ہوا وہ افغانستان کی بقاء اور سالمیت،خودمختاری کو تسلیم کرکے اپنے گناہ کاکفارہ اداکریں ہمارے پاس بہترین لوگ اور سفارتکار ہیں جو بہتر کردارادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان عورت کو معاشرے کاحصہ تسلیم کریں اسلامی نظام کے تحت خواتین کو جائیداد میں حصہ دیں اور اس اقدام سے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیادرکھیں خواتین کو جائیداد میں قانونی حصہ ملے گا تو کوئی بھی انکا کچھ نہیں کرسکتا ایران میں بھی عورتیں حجاب کرتی ہیں اور لاکھوں خواتین جامعات میں پڑھ رہی ہیں پڑھی لکھی ماوں سے پڑھا لکھا ترقی یافتہ معاشرہ بنے گا ہمیں خواتین کو معاشرے کا حصہ دار بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ طالبان بھی افغان شہری ہیں انہیں بھی وزیراعظم بننے کا حق ہے اسی طرح افغانستان کے تمام لوگوں کو وزیراعظم بننے کا حق ہے بندوق کے زورپر طالبان آگئے ہیں مگر بدگمانیاں،دشمنیاں ہیں طالبان مہربانی کرکے لوگوں کو نہ چھیڑیں اور حضرت محمدؐ کا رویہ اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان کی سالمیت اورخودمختاری تسلیم نہیں کی جائے گی ہمیں اسکا فائدہ نہیں ہوگا افغانستان کی خودمختاری کو تسلیم کرنے سے ہمارے ہاں اقتصادی فائدہ ہوگا پانچواں صوبہ یا اس جیسے دیگر اقدامات سے ہمیں نقصان پہنچے گاانہوں نے کہا کہ طالبان لڑنے والے لوگ ہیں وہ اپنے لوگ کو استعمال میں لاکر افغانستان میں ایک جدید فوج کی تشکیل دینے میں کردار اد ا کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب سویت یونین مضبوط ہوا اوراسکی طاقت بڑھی تو سوویت یونین اورا مریکہ نے اپنے بازو کی طاقت دکھانے کیلئے پرتولے لیکن یورپ جوکہ دو جنگ عظیم لڑچکا تھا جنگ کی تباہ کاریوں سے واقف تھا۔انہوں نے کہا کہ نجیب اللہ کے انتقا ل اقتدار کو سبوتاژ کیا گیاجس کے بعد افغانستان قبرستان میں تبدیل ہوا۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کا موقف ہے کہ روس اور امریکہ کے ساتھی افغانستان کی تمام تر بربادیوں کے ذمہ دار ہیں ایٹم بم کے علاوہ ہراسلحہ،جہاز اور بم افغانستان پراستعمال ہوئے اورغریب افغانوں کے وطن کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں توازن خراب ہوا تو لوگ ہیرو شیما اور ناگا ساقی کو بھول جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک عبید اللہ کاسی کی ویڈیو دیکھی ہے اس معاملے پر ذمہ دار لوگوں سے بات ہونی چاہیے کہ یہ کیا ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیورنڈ لائن کے اسطرف بسنے والے پشتونوں پر مشتمل صوبہ بنادیا جائے تو ہم افغانستان سے اپنے رشتے ناطے توڑ دیں گے