افغانستان میں جون سے اب تک 40ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا جا چکا ہے، ریڈ کراس

عالمی امدادی ایجنسی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ افغانستان میں جون سے اب تک لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے 40 ہزار سے زائد افراد کا ریڈا کراس کے تحت علاج کیا جا چکا ہے جن میں سے ساڑھے 7ہزار کا رواں ماہ علاج کیا گیا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اگست کے پہلے 10 دنوں کے دوران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے چار ہزار 42 زخمیوں کا علاج کیا اور صرف پچھلے ہفتے میں ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا گیا۔
یہ اعدادوشمار ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب طالبان نے دارالحکومت کابل سمیت ملک کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جو بغیر کسی لڑائی کے طالبان کے قبضے میں آگیا۔
آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر جنرل رابرٹ مارڈینی نے اس با ت پر اطمینان کا اظہار کیا کہ طالبان کے شہر میں داخل ہونے کے نتیجے میں کابل اور اس کے شہریوں کو تباہ کن جنگ سے بچا لیا گیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری میڈیکل ٹیمیں اور بحالی کے مراکز میں آنے والے مہینوں اور سالوں تک مریضوں کی بڑی تعداد کے آنے کا امکان ہے کیونکہ دھماکہ خیز مواد سے زخمی ہونے کے سبب انہیں صحتیاب ہونے میں ایک عرصہ لگے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وارڈز میں بچوں اور نوجوان سے لے کر خواتین کو دیکھ کو دل دہل جاتا ہے۔
ترجمان فلورین سیریکس نے کہا کہ 1987 سے افغانستان میں کام کرنے والی ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کا افغانستان میں سرجیکل ٹیموں سمیت تقریبا ایک ہزار 800 سے زائد عملہ تعینات ہے۔
26 جولائی کو اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں رواں سال مئی اور جون میں تقریباً 2ہزار 400 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے کیونکہ اور یہ 2009 کے بعد کسی بھی دو ماہ میں افغانستان میں ہلاک و زخمی افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے امدادی مشن (یوناما) نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے جنوری اور جون کے درمیان 5ہزار افراد کے متاثر ہونے کی دستاویز تیار کی ہے جس میں سے ایک ہزار 659 ہلاک ہوئے، یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت میں ہونے والی ہلاکتوں سے 47 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اعدادوشمار افغانستان کے بدترین حالات کی عکاسی کرتے ہیں جہاں سے امریکی صدر جو بائیڈن نے انخلا کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ ہی امریکا کی 20سالہ جنگ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔




