اہم خبریںپاکستان

طالبان کا صدارتی محل پر قبضے کا دعویٰ، کابل میں کرفیو نافذ کر دیا گیا

طالبان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ انھوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے تھے تاہم تاحال محل کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہے۔

طالبان کے اس دعوے کی حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔

صحافی بلال سروری کے مطابق ان کی دو ایسے افغان اہلکاروں سے بات ہوئی ہے جو اس وقت مذاکرات کا حصہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ معاہدے کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ صدر اشرف غنی محل میں اقتدار کی منتقلی کی تقریب میں شریک ہوں گے تاہم وہ اور ان کے سینیئر اہلکار ملک سے فرار ہو گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’محل میں کام کرنے والے اہلکاروں کو محل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی اور اسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔

افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ جبکہ طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے ہیں، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے اور سکیورٹی سنبھالنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ جبکہ افغان وزارت داخلہ نے کابل میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

اس سے قبل ہم خبر دے چکے ہیں کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایئرپورٹ پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کو طیاروں کی جانب بھاگتے بھی دیکھا گیا ہے اور اس وقت امیگریشن ڈیسک اور ایئرلائنز کے لیے عملہ کم پڑ رہا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ادارہ کابل سے لوگوں کی محفوظ منتقلی کے لیے ایئرپورٹ کھلا رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button