2007میں بگرام بیس پر خودکش حملے کا نشانہ ڈک چینی تھے

واشنگٹن : فروری 2007 میں افغانستان کے بگرام ایئر بیس پر طالبان نے خودکش حملے میں اس وقت کے امریکی ناب صدر ڈک چینی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے ۔امریکی فوجی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا شر پسند محض جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوجی حکام سچائی کو چھپارہے تھے ۔ اس بات کا انکشاف مصنف کریگ وِٹ لاک نے اپنی کتاب ‘‘دی افغانستان پیپرز:اے سیکرٹ ہسٹری آف دی وار’’ میں کیا۔واشنگٹن پوسٹ کی کتاب سائمن اینڈ شسٹر (ناشر) کے بینر تلے 31 اگست کو شائع کی جانے والی ہے ۔ تصنیف میں کریگ وِٹ لاک بتاتے ہیں کہ کس طور امریکی صدور نے دو عشروں تک اس جنگ کے حوالے سے عوام سے غلط بیانی کی۔ مصنف کے مطابق 27 فروری 2007 کی صبح بگرام ایئر بیس پر خودکش بمبار افغان پولیس بچتے بچاتے مین گیٹ کی طرف ایک چوتھائی میل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں سے وہ ایک اور چیک پوسٹ کی طرف بڑھا یہاں امریکی فوجی تعینات تھے اس نے رکاوٹوں، پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کے ہجوم میں خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ دھماکے سے 20 افغان مزدور مارے گئے جو اس روز کام کی تلاش میں وہاں آئے تھے ۔ بین الاقوامی فوجی اتحاد سے وابستہ دو امریکی اور جنوبی کوریا کا ایک باشندہ بھی ہلاک ہوا۔ مصنف کے مطابق حملے کے وقت بگرام ایئر بیس پر امریکی نائب صدر ڈک چینی بھی موجود تھے جو مکمل محفوظ رہے ۔ ان کی موجودگی کے حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ ڈک چینی خطے کے دورے کے موقع پر ایک دن پہلے ہی خاموشی سے وار زون میں داخل ہوئے تھے ۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ایئر فورس ٹو کے ذریعے افغانستان پہنچنے والے ڈک چینی اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے لئے چند گھنٹے افغان سرزمین پر گزارنا چاہتے تھے ۔ خراب موسم نے انہیں کابل تک جانے سے روک دیا اس لیے انہوں نے رات بگرام ایئر بیس پر گزاری۔ کابل سے تیس میل دور واقع بگرام ایئربیس پر اس وقت نو ہزار امریکی عملہ تعینات تھا۔ خود کش دھماکے کے چند ہی گھنٹے بعد طالبان نے صحافیوں سے رابطہ کرکے ذمہ داری قبول کی اور یہ بھی کہا امریکی نائب صدر ڈک چینی ان کا ہدف تھے مگر امریکی فوجی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شر پسند محض جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نائب صدر ڈک چینی بگرام ایئر بیس کے دوسرے سرے پر ایک میل دور تھے اور خطرے سے باہر تھے ۔ ان کا اصرار تھا کہ طالبان مختصر نوٹس پر ایسے حملے کی منصوبہ بندی کے اہل نہیں اور یہ کہ ڈک چینی نے آخری لمحات میں پروگرام بدل بھی دیا تھا۔ امریکا اور نیٹو کی افواج کے ترجمان آرمی کرنل ٹام کالنز نے کہا طالبان کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ وہ نائب صدر ڈک چینی کو نشانے پر لیے ہوئے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوجی حکام سچائی کو چھپارہے تھے ۔ بگرام ایئر بیس پر سکیورٹی انچارج ، بیاسیویں ایئر بورن ڈویژن کے کمپنی کمانڈر اور تب کیپٹن شان ڈیلرمپل نے ایک ‘‘اورل ہسٹری’’انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ بگرام ایئر بیس پر نائب صدر ڈک چینی کی موجودگی کی خبر باہر نکل چکی تھی۔ خود کش بمبار نے مین گیٹ سے گاڑیوں کے بڑے قافلے کو نکلتے دیکھا تو یہ سوچ کر دھماکا کردیا کہ ان گاڑیوں میں ڈک چینی بھی موجود ہیں۔ ڈک چینی کی نقل و حرکت کے حوالے سے سیکرٹ سروس کے ساتھ منصوبہ سازی کرنے والے ڈیلرمپل نے بتایا کہ خود کش بمبار اپنے ہدف سے زیادہ دور نہ تھا۔ ڈک چینی کسی اور قافلے میں تیس منٹ بعد کابل روانہ ہونے والے تھے ۔ طالبان کو اس کا علم تھا۔ ڈک چینی کی بگرام ایئر بیس پر موجودگی اور وہاں سے کابل روانگی سے متعلق معاملات کو چھپانے کی بہت کوشش کی گئی مگر کسی نہ کسی طور معاملہ بگرام ایئر بیس سے باہر چلا ہی گیا۔ ڈیلرمپل نے بتایا کہ ایک سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل کو دیکھ کر خود کش بمبار سمجھا کہ اس میں نائب صدر ڈک چینی سوار ہیں۔ اس حملے نے بہت سوں کی نیندیں اڑادیں جو یہ سمجھتے تھے کہ بگرام ایئر بیس انتہائی محفوظ مقام ہے ۔ کتاب میں بیان کیا گیا ہے افغانستان میں آخر کہاں کہاں کیا کوتاہیاں سرزد ہوئیں ، افغان جنگ میں فعال کردار ادا کرنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کے انٹرویوز اور دستاویزات کے مطالعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کس طور سابق صدور جارج واکر بش، باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس سچائی کو دو عشروں تک چھپایا کہ کس طور امریکا ایک ایسی جنگ ہار رہا تھا جسے ابتدا میں امریکیوں کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔




