ملک بھر میں چہلم امام حسین عقیدت و احترام سے منایا گیا

0 35

اسلام آباد/لاہور/کراچی /پشاور:  ملک بھر میں میں نواسہ رسول حضرت امام حسین اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چہلم روایتی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں مجالس کا اہتمام کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں لوگ جلوسوں میں بھی شریک ہوئے ۔کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے علامہ شبر زیدی، ناصر علی اور علی رضا کی سربراہی میں برآمد ہوا جس کی گزرگاہوں میں واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس کی نگرانی بھی کی گئی ۔اس کے علاوہ جلوس کے راستوں پر موبائل فون کی سروس بھی جزوی طور پر معطل ر ہی جبکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد تھی ۔چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادا روں کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور اس سلسلے میں 5 ہزار 313 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کی عبادت گاہوں، مجالس، امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف اسنیپ چیکنگ، موبائل پیٹرولنگ اور موٹر سائیکل پر گشت میں اضافہ کردیا گیا۔حفاظتی اقدامات کے پیشِ نطر ایم اے جناح روڈ کو مکمل طور پر کنٹینرز لگا کر سیل کیا گیا جبکہ جلوس کے راستے میں آنے والی دکانوں کو بھی مکمل طور پر تلاشی لیے جانے کے بعد ایک روز قبل ہی بند کردیا گیا تھا۔اس کے ساتھ بم ڈسپوزل آلات اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے جلوس کے راستوں کی سخت تلاشی بھی لی گئی ۔پشاور میں چہلم امام حسین کے سلسلے میں امام بارگاہ علمدار میں مجلس برپا ہوئی اور نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد امام بارگاہ آخوندآباد سے جلوس برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اسی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہو ا۔سٹی پولیس نے چہلم امام حسین کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دیا جس کے مطابق 4 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ۔علاوہ ازیں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی جلوس کی نگرانی کی گئی ، حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر پولیس اہلکاروں کو خصوصی کارڈز جاری کیے گئے ۔پشاور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن کے مطابق شہر میں داخل ہونے والے تمام افراد کی کڑی نگرانی کو ممکن بنایا گیا اور اندرون شہر قائم ہوٹلوں اور سرائے کی بھی وقتا فوقتا چیکنگ کی گئی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام اہم اور حساس مقامات پر باوردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز اہلکار بھی تعینات تھے ۔لاہور میں چہلم حضرت امام حسین کے ساتھ ساتھ عرس داتا علی ہجویری کا آخری روز بھی تھا اور سیکورٹی ادارے ان دونوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنا ئی ۔ڈی آئی جی (ڈپٹی انسپکٹر جنرل) آپریشنز لاہور اشفاق خان کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد پولیس افسران و جوان فرائض سر انجام د یئے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں تھے ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی جلوس کی سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے شہر میں ڈبل سواری پر پابندی ہے اس کے ساتھ جلوس کی فضائی نگرانی اور روف ٹاپ سکیورٹی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے ۔لاہور میں چہلم کا مرکزی جلوس حویلی الف شاہ سے شروع ہوکر مقررہ راستوں سے ہوتا ہواکربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہو اجس میں شرکا کو 3درجاتی سکیورٹی حفاظتی حصار کے ذریعے جسمانی تلاشی کے بعد ہی داخل ہونے کی اجا زت دی گئی ۔سندھ کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ جیکب آباد میں بھی چہلم کی مناسبت سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور اس سلسلے میں 1800 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔جیکب آباد ضلع بھر میں 35 ماتمی جلوس برآمد ہو ے جن کی گزرگاہوں کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ۔اس کے علاوہ 3 مانیٹرنگ روم قائم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ پکٹس قائم کی گئیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.