سوڈان اور اسرائیل میں تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق، وفود کی جلد ملاقات متوقع

0 31

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سوڈان اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوڈان کو ’دہشتگردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک‘ کی فہرست سے نکال کر ملک میں معاشی امداد اور سرمایہ کاری کو بھی بحال کر دیا ہے۔

یہ اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’کم از کم پانچ مزید‘ عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں۔ جس کے بعد یہ دونوں ملک 26 برس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی خلیجی ریاستیں بن گئیں ہیں۔

سوڈان اور اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایک سہ فریقی اعلامیے میں کہا کہ ‘اگلے چند ہفتوں میں’ وفود ملاقاتیں کریں گے۔

بیان کے مطابق: ‘رہنماؤں نے سوڈان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں اقوام کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق کیا۔’

سنہ 1979 میں مصر جبکہ سنہ 1994 میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے تھے۔ افریقی عرب لیگ کے رکن موریطانیہ نے سنہ 2009 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا لیکن 10 سال بعد اس نے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات بنانے والے عرب ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کی فلسطینیوں نے مذمت کی ہے۔

تاریخی طور پر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکارت کو 1967 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے قیام سے مشروط کر رکھا تھا۔

یہ اعلان کیسے کیا گیا؟

صدر ٹرمپ کے سوڈان کو دہشتگردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے نکالنے کے فوراً بعد واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو اوول آفس لے جایا گیا جہاں صدر ٹرمپ سوڈان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے ساتھ فون پر بات کر رہے تھے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ ’امن کے لیے ڈرامائی پیشرفت‘ اور ایک ’نئے دور‘ کا آغاز ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور سوڈان کے وفود تجارتی اور زرعی تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کریں گے۔

سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے اپنے ملک کو دہشت گردی کی فہرست سے ہٹانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سوڈان کی حکومت ’بین الاقوامی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہے جو ہمارے عوام کی بہترین خدمت کے لیے ہے۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.