
کو ئٹہ: ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ خواتین پر ظلم و زیادتی کی تاریخ جتنی قدیم ہے خاتون کے روپ میں اس عزم و ہمت کی داستان بھی اْتنی ہی پرانی ہے،لڑکی پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کرنا،بیٹی اور بیٹے میں تفریق ر کھنا،انہیں تعلیم سے دور رکھنا اور دیگر کئی زیادتیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے زیر قیادت خواتین کو تمام تر انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے گی، خواتین کو تعلیم کے یکسر مواقعے اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ ایک خودمختار زندگی بسر کر سکیں۔ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ہر سال 11 اکتوبر کو لڑکیوں کا بین الاقوامی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ لڑکیوں کے حقوق اور لڑکیوں کو درپیش مسائل کی جانب توجہ مبذول کروائی جا سکے،ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ طلباء و طالبات کو تعلیم کے یکسر مواقعے فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہے جس کے لیے تمام تر موجودہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تعلیمی میدان میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے،لیڈی ڈاکٹرز کو بی ایم سی ہاسٹل سے نکالے جانے والے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ ان کو مسائل کے موثر حل کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے جس پر انہوں نے اپنا احتجاج موخر کر دیا ہے، لیڈی ڈاکٹرز ہوں یا پھر کسی اور شعبے میں فرائض سرانجام دینے والی خواتین ہمارے لئے سب باعث فخر اور باعث عزت ہیں،کسی کوْ اخلاقی دائرہ کار سے تجاوز کرنے کیْ اجازت نہیں دی جائے گی، موجودہ حکومت وز اعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں طالبات کو تمام تر حقوق کی فراہمی ممکن بنائے گی۔




