رواں صدی کے آخر تک عالمی آبادی میں ڈیڑھ ارب کی کمی متوقع

0 25

سائنسی ماہرین کے مطابق زمین پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجہ انسانی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ نہیں بلکہ انسانوں کو دستیاب وسائل کا بہت تیز رفتار اور بے دردی سے استعمال ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ آج انسانوں کی فی کس اوسط عمر بہت بڑھ گئی ہے، زمین پر انسانی آبادی میں بوڑھوں کا تناسب کافی زیادہ ہو چکا ہے اور فی کس اوسط شرح افزائش بھی کم ہو رہی ہے۔

آبادی سے متعلقہ امورکے کئی ماہرین کے مطابق رواں صدی کے آخر یعنی سن 2100ء تک دنیا کے ہر ملک کی آبادی کم ہونا شروع ہو چکی ہو گی۔ یہ بات ان ماہرین نے سائنسی جریدے ‘لینسَیٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی بین الاقوامی تحقیق کے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھی ہے۔

زمین پر انسانی آبادی کی انتہا آج سے چار عشرے بعد

یہ ریسرچ صحت سے متعلق اعداد و شمار اور ان کے تجزیے کے ادارے IHME نے مکمل کروائی۔ اس تحقیق سے اخذ کردہ نتائج کے مطابق اگلی صرف چار دہائیوں میں (یعنی 2060ء تک) زمین پر انسانوں کی مجموعی آبادی 9.7 بلین ہو جائے گی۔

سن دو ہزار پچاس تک دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں بزرگ شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی

اس کے بعد دنیا کی آبادی میں کمی کا ایسا سلسلہ شروع ہو گا، جس کے نتیجے میں 2100ء تک یہ آبادی کم ہو کر 8.8 بلین رہ جائے گی۔

لیکن مستقبل کا یہ عالمی رجحان اگر اب تک کی توقعات سے زیادہ تیز رہا، تو یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ صدی کے آخر تک زمین پر انسانی آبادی میں مجموعی طور پر 1.5 بلین کی کمی دیکھنے میں آئے۔

جاپان اور اسپین کی آبادی نصف رہ جائے گی

اس تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آئندہ 80 برسوں میں مشرق بعید میں جاپان اور یورپ میں اسپین جیسے ممالک کی آبادی کم ہو کر آدھی رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک چین کی آبادی میں بھی واضح طور پر کمی ہو گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.