امارات، اسرائیل میں تاریخی امن معاہدہ

0 28

واشنگٹن ،غزہ; امریکی صدر ٹرمپ کی معاونت سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت دونوں ممالک نے جلد معمول کے سفارتی تعلقات کی بحالی پر اتفاق کر لیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دوطرفہ معاہدے کے تحت اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر اپنی حاکمیت کا اطلاق معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے ، امن ڈیل اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے مابین طویل مذاکرات کا نتیجہ ہے جس میں پیش رفت حال ہی میں ہوئی ۔ معاہدے کی توثیق صدر ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد زید کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کے دوران ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ دو عظیم دوستوں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدے کی صورت میں آج ایک بڑی کامیابی دیکھنے کو ملی۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق ٹرمپ نے کہا اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا منصوبہ روک دے گا ۔ وائٹ ہاؤس نے اس ڈیل کو ‘‘ابراہام معاہدہ ’’ قرار دیا ہے جوکہ 1994 کے اردن ، اسرائیل امن معاہدے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے ۔اسے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔تینوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ تینوں رہنماؤں نے اسرائیل اورامارات کے درمیان معمول کے مکمل سفارتی تعلقات پر اتفاق کیا ہے ،یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات جلد ہوں گے ، معاہدے سے مشرق وسطی میں امن کو فروغ ملے گا۔بحرین ، مصر ، برطانیہ ، آسٹریلیا نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے ۔رائٹرز کے مطابق فلسطین نے معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے ،فلسطین کی سابق مذاکرات کارحنان الشراوی نے کہاخطے میں ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تہران کے بڑے مخالف اسرائیل اور ایران کی علاقائی حریف خلیجی ریاستوں کی سیاسی ترجیحات یکساں ہو چکی ہیں ۔حماس نے کہاکہ یو اے ای نے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپاہے ۔ادھر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی منصوبے کی معطلی کے بدلے میں اسرائیلی، یو اے ای امن معاہدے پر غور کیلئے اعلیٰ حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق اجلاس کے بعد فلسطینی اتھارٹی اسرائیل یواے ای امن معاہدہ پر اپنے موقف کا اعلان کرے گی۔ واضح رہے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنیوالا یو اے ای پہلا خلیجی اور تیسرا عرب ملک ہے ۔ ادھر الجزیرہ کے مطابق ایران نے معاہدہ مسترد کر دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.