بلوچستان اسمبلی،متحدہ اپوزیشن نے پی ایس ڈی پی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں کثرت رائے سے صوبائی بجٹ2020-21 کی منظوری کے بعد متحدہ اپوزیشن نے پی ایس ڈی پی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ صوبائی حکومت نے پلاننگ کمیشن کی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین کو بجٹ میں نظر انداز کیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان حکومت نے صوبائی پی ایس ڈی پی میں غیر منتخب افراد کے ترقیاتی منصوبے شامل کرکے غریب عوام سے زیادتی کی ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جناب جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بنچ نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر اس آئینی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان اور دیگر حکام کو13 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن جام کمال حکومت کو ہر محاذ پر ٹف ٹائم دینے کیلئے متحرک ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے سر جوڑ لئے ہیں اور باقاعدہ اس مقصد کیلئے بڑے پیمانے پر رابطوں کا بھی آغاز کردیا ہے۔ان سیاسی حلقوں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ نہ صرف جام حکومت کی اتحادی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں بلکہ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں بھی جو پارلیمانی ارکان وزیراعلیٰ جام کمال سے ناراض ہیں انہیں بھی آن بورڈ لیا جائے۔