صوبے بھر میں سیف سٹیز منصوبے کی مرحلہ وار توسیع، پشاور منصوبہ 31 جنوری تک مکمل ہوگا: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

23

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 13 جنوری 2026:
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں سیف سٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں جاری منصوبوں، توسیعی حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی و قانونی فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ 31 جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جہاں اہم شاہراہوں، چوراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر جدید کیمروں کی تنصیب جاری ہے۔ بریفنگ کے مطابق سیف سٹیز منصوبے کے تحت پشاور میں 133 مقامات پر 711 جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جن میں اے این پی آر، فیشل ریکگنیشن، جی ایس اور تھرمل کیمرے شامل ہیں، جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر کام آخری مراحل میں ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈی آئی خان میں 88، بنوں میں 76 اور لکی مروت میں 47 مقامات پر جدید نگرانی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے اور ان تینوں اضلاع میں بھی منصوبہ 31 جنوری تک مکمل ہو جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان کے لیے سیف سٹیز منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جبکہ ابتدائی سروے اور تیاری مکمل ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد صوبے کے باقی ماندہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک سیف سٹی منصوبے کی مرحلہ وار توسیع کی جائے۔ انہوں نے سیف سٹیز اتھارٹی کے قیام کے لیے جامع تجاویز پیش کرنے اور ضم اضلاع میں منصوبے کے لیے چوبیس گھنٹے سولر انرجی کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سیف سٹیز منصوبہ جرائم کی روک تھام، فوری ردِعمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ کرے گا اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد ثابت ہوگا۔

Comments are closed.