برآمدی رفتار میں کمی، ٹیکسٹائل سیکٹر میں برطرفیوں اور فیکٹری بندشوں کا خدشہ: چیئرمین پی ٹی سی
اسلام آباد: 14 دسمبر 2025 — چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) فواد انور نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں کاروبار کی بلند لاگت اور برآمدی رفتار میں کمزوری کے باعث بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور فیکٹریوں کی بندش کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
پی ٹی سی کے تازہ ترین برآمدی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ مالی سال 26 کے جولائی تا نومبر کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مجموعی برآمدات 7.84 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، تاہم یہ ظاہری نمو ویلیو چین کے اہم حصوں میں موجود گہرے ساختی مسائل کو چھپا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہانہ رجحانات اور روایتی ٹیکسٹائل کیٹیگریز میں نمایاں سست روی تشویشناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر 2025 میں برآمدات کم ہو کر 1.43 ارب ڈالر رہ گئیں، جو سال بہ سال بنیاد پر 2.7 فیصد جبکہ اکتوبر 2025 کے مقابلے میں 11.7 فیصد کمی ہے۔ فواد انور کے مطابق یہ کمی اس بڑھتی ہوئی لاگت کا نتیجہ ہے جسے برآمد کنندگان عالمی خریداروں تک منتقل کرنے سے قاصر ہیں۔
چیئرمین پی ٹی سی نے نشاندہی کی کہ روایتی ٹیکسٹائل، جن میں خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات شامل ہیں، مالی سال 26 کے جولائی تا نومبر کے دوران 7.7 فیصد کم ہو کر 1.38 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1.28 ارب ڈالر رہ گئیں۔ صرف نومبر میں روایتی ٹیکسٹائل کی برآمدات سال بہ سال 18.5 فیصد اور ماہ بہ ماہ 8 فیصد کم ہوئیں، جو صنعت کے ابتدائی درجے میں دباؤ کی واضح علامت ہے۔
اگرچہ ملبوسات اور میڈ اَپ ٹیکسٹائل کی برآمدات مالی سال 26 کے جولائی تا نومبر کے دوران 6.56 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم فواد انور نے خبردار کیا کہ حالیہ مہینوں میں اس شعبے کی رفتار بھی نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے۔ نومبر میں ملبوسات کی برآمدات سال بہ سال 0.5 فیصد کم جبکہ ماہ بہ ماہ 13 فیصد گر گئیں، جو پاکستان کے مضبوط ترین برآمدی شعبوں میں بھی مسابقتی صلاحیت میں کمی کا اشارہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نمایاں برآمدی مصنوعات میں بھی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ہوم ٹیکسٹائل (چیپٹر 63) میں کاٹن بیڈ لینن اور بیڈ کورز کی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح نِٹڈ ملبوسات (چیپٹر 61) میں ٹی شرٹس اور دستانوں کی برآمدات کمزور ہوئیں، جبکہ وون ملبوسات (چیپٹر 62) میں کاٹن مردانہ سوٹس، جیکٹس، ٹراؤزرز اور متعلقہ ملبوسات کی برآمدات میں جولائی تا نومبر مالی سال 26 کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی سی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ برآمد کنندگان نااہلی کے باعث نہیں بلکہ پالیسیوں کے تحت عائد اخراجات کے سبب مسابقت کھو رہے ہیں، جس نے پیداوار کو تجارتی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی توانائی، غیر یقینی سپلائی، مہنگی فنانسنگ اور بھاری، مرحلہ وار ٹیکس نظام عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سخت مالیاتی حالات، بلند شرح سود اور سستے ورکنگ کیپیٹل تک محدود رسائی کے باعث جدید کاری اور استعداد میں اضافے کی سرمایہ کاری رک چکی ہے، جبکہ تاخیر سے ریفنڈز اور متعدد ٹیکسوں نے منافع کے مارجن کو مزید دبا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی خریدار ملکی پالیسی مسائل کی قیمت ادا نہیں کرتے۔
ممکنہ معاشی اثرات سے خبردار کرتے ہوئے فواد انور نے کہا کہ فوری اصلاحی اقدامات کے بغیر پاکستان مستقل طور پر برآمدی آرڈرز کے ضیاع، بڑے پیمانے پر روزگار کے خاتمے اور ٹیکسٹائل ویلیو چین میں صنعتی یونٹس کی بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسابقت کی بحالی کے لیے توانائی کی لاگت میں کمی، شرح سود میں نرمی، ٹیکس نظام کی معقولیت اور ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
چیئرمین پی ٹی سی نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی کوئی انتخاب نہیں بلکہ پاکستان کے لیے واحد پائیدار راستہ ہے۔
Comments are closed.