پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات تمام بڑے عالمی منڈیوں میں مسلسل کمی کا شکار؛ مسابقت بحال کرنے کے لیے فوری حکومتی مداخلت ناگزیر: چیئرمین پی ٹی سی

18

 اسلام آباد، 07 جنوری 2026 — پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے چیئرمین فواد انور نے مالی سال 2025–26 کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو شدید اور ہمہ گیر زوال کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمزوری، ملکی سطح پر پیداواری لاگت میں اضافہ اور بین الاقوامی مسابقت میں شدت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، اور اس میں کمی کے فوری اور سنگین اثرات زرِمبادلہ کی آمدن، روزگار اور صنعتی صلاحیت کے استعمال پر مرتب ہو رہے ہیں۔

باب 61 (نِٹڈ ملبوسات)، باب 62 (بُنے ہوئے ملبوسات) اور باب 63 (ہوم ٹیکسٹائل و میڈ اَپس) کے برآمدی رجحانات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ششماہی کے دوران کمزوری بڑھتی گئی، جبکہ نومبر–دسمبر اس حوالے سے نچلا ترین مرحلہ ثابت ہوا۔ یہ کمی پاکستان کی تین بڑی برآمدی منڈیوں—یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ—میں واضح طور پر دیکھی گئی۔

چیئرمین پی ٹی سی نے کہا،
“اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ یہ طلب یا مارکیٹ تک رسائی کا مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر کاروبار کی لاگت اور مسابقت کا بحران ہے۔ جب تمام بڑی مصنوعات اور منڈیوں میں ایک ساتھ برآمدات کم ہوں تو مسئلہ نظامی نوعیت کا ہوتا ہے۔”

انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں حکومتیں اسی نوعیت کے چیلنجز کا جواب فعال صنعتی پالیسی اور ہدفی سرکاری معاونت کے ذریعے دے رہی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں شائع ہونے والے آئی ایم ایف کے صنعتی پالیسی پر ورکنگ پیپر کے مطابق اسٹریٹجک مسابقت بڑھانے، سپلائی چین کی مضبوطی اور ماحولیاتی منتقلی کے اہداف کے لیے ادارہ جاتی اور شعبہ جاتی سطح پر مداخلت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلند ٹیرف اور مسلسل تجارتی کشیدگی کے باوجود چین نے 2025 کے پہلے گیارہ ماہ میں تقریباً ایک کھرب امریکی ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا، جس کی بنیاد منڈیوں کی تنوع کاری، مسابقتی زرِمبادلہ انتظام اور اعلیٰ قدر کی صنعتوں کے لیے مسلسل حکومتی معاونت رہی۔

اسی طرح بھارت نے پانچ ارب امریکی ڈالر کے برآمدی معاونتی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں کریڈٹ گارنٹیز اور رعایتی تجارتی فنانس سہولیات شامل ہیں، جبکہ ویتنام نے اپنے “دوئی موئی 2.0” اصلاحاتی پروگرام کے تحت ٹیکس ریلیف، صنعتی زمین تک بہتر رسائی اور ہدفی مراعات متعارف کرائی ہیں تاکہ نجی شعبے کی مسابقت مضبوط کی جا سکے۔

فواد انور نے کہا،
“اس تناظر میں پاکستان کے برآمدکنندگان کو نسبتاً زیادہ توانائی لاگت، بکھرے ہوئے ٹیکس نظام، تاخیر سے ریفنڈز اور غیر یقینی پالیسی ماحول کے ساتھ عالمی مسابقت میں اتارا جا رہا ہے۔”

مالی سال 2025–26 کی پہلی ششماہی کے تازہ اعداد و شمار پاکستان کی تین بڑی منڈیوں میں برآمدات میں تشویشناک کمی ظاہر کرتے ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ میں مسابقتی ممالک چین اور بھارت پر زیادہ ٹیرف کے نفاذ کے باوجود پاکستانی برآمدکنندگان اپنی مارکیٹ شیئر بڑھانے میں ناکام رہے، جو پاکستان میں کاروبار کی بلند لاگت کی مسلسل موجودگی اور برآمدی مسابقت کے کمزور ہونے کی واضح علامت ہے۔

مزید برآں، بھارت نے یورپی یونین اور برطانیہ دونوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے مکمل کر لیے ہیں۔ پاکستان کی ان منڈیوں میں برآمدات پہلے ہی تنزلی کا شکار ہیں، اور جیسے ہی یہ معاہدے مکمل طور پر نافذ ہوں گے، مسابقتی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

چیئرمین پی ٹی سی نے زور دیتے ہوئے کہا،
“یہ تمام اشاریے کووڈ-19 کے دوران متعارف کرائے گئے 1.2 کھرب روپے کے اقتصادی ریلیف پیکیج جیسی وسعت اور فوری نوعیت کی حکومتی مداخلت کے متقاضی ہیں۔”

برآمدی رجحانات میں بگاڑ کے پیش نظر، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل مندرجہ ذیل فوری اقدامات تجویز کرتی ہے:

1۔ برآمدی ٹیکسیشن کی معقول تشکیل
برآمدات پر ٹیکس کو 1 فیصد مقرر کیا جائے جسے مکمل اور حتمی تصفیہ سمجھا جائے، یا متبادل کے طور پر کارپوریٹ انکم ٹیکس 15 فیصد نافذ کیا جائے۔ سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

2۔ ڈی ایل ٹی ایل اسکیم کا فوری اجرا
ڈیوٹیز اینڈ ٹیکسز ریمی شن فار ایکسپورٹس (DLTL) اسکیم کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور ویلیو ایڈیڈ، فیبرک فارورڈ برآمدکنندگان کے لیے 5 فیصد ڈرا بیک ریٹ مقرر کیا جائے، جو گزشتہ سال کی برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر ہو، تاکہ ناقابلِ واپسی مقامی ڈیوٹیز، ٹیکسز اور لیویز کا ازالہ کیا جا سکے۔
تمام زیرِ التوا DLTL اور TUF کلیمز کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے۔

3۔ ای او بی آئی اور صوبائی سوشل سیکیورٹی کنٹری بیوشنز کی عارضی معطلی
برآمدی صنعتوں کے لیے تین سال کی مدت کے لیے EOBI اور SESSI/PESSI کنٹری بیوشنز معطل کی جائیں، کیونکہ ان اداروں کے پاس اس وقت وافر ذخائر موجود ہیں۔

4۔ توانائی کی لاگت میں فوری کمی
برآمدی صنعتوں کے لیے گیس لیوی اور بجلی ٹیرف میں شامل کراس سبسڈی عنصر ختم کیا جائے، اور اس سے پیدا ہونے والے مالی اثرات بجٹ وسائل کے ذریعے پورے کیے جائیں تاکہ توانائی لاگت کا دباؤ کم ہو اور صنعتی مسابقت بحال کی جا سکے۔

آخر میں فواد انور نے کہا،
“پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بروقت، ہدفی اور فیصلہ کن پالیسی اقدامات کے ذریعے اس زوال کو اب بھی روکا جا سکتا ہے۔ تاخیر صرف صنعت کاری میں کمی اور برآمدی منڈیوں کے نقصان کو تیز کرے گی۔”

Comments are closed.