جموں و کشمیر میں خود ارادیت کا مطالبہ: آئی ایس ایس آئی گول میز کانفرنس

21

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
اسلام آباد، 5 جنوری 2026:
انڈیا اسٹڈی سینٹر، آئی ایس ایس آئی نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تعاون سے “5 جنوری: جموں و کشمیر میں خود ارادیت کا مطالبہ” کے عنوان سے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔
اس موقع پر آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی یو این سی آئی پی قرارداد نے یہ اصول قائم کیا کہ جموں و کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کشمیری عوام کے ذریعے آزاد اور غیر جانبدار ریفرنڈم کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کے حالیہ موقف کو ناقابل قبول قرار دیا، کیونکہ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا داخلی حصہ کہہ کر دوطرفہ یا داخلی معاملے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سینٹر، ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے حق خود ارادیت کے لیے انتظار کر رہی ہیں، اور 5 اگست 2019 کے بعد اس قرارداد کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سابق کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس، فراق رحمتی نے کہا کہ بھارت کبھی بھی یو این کی قراردادوں کو نافذ کرنا نہیں چاہتا، اور 1990 کی دہائی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام آرٹیکلز 370 یا 35A کی بحالی نہیں چاہتے بلکہ 78 سال پرانے وعدے یعنی حق خود ارادیت کا نفاذ چاہتے ہیں۔
پاکستان کی نمائندہ، سفیر رفعت مسعود نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور خواتین، خصوصاً نصف بیواؤں کی حالتِ زار، عالمی برادری کی توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مقامی اور عالمی سطح پر عوامی رائے کو متحرک کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جموں و کشمیر تنازع کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنا چاہیے۔
کانفرنس میں دانشور، طلبہ اور تھنک ٹینک کے ارکان نے شرکت کی۔ سفیر خالد محمود نے کشمیری عوام کی استقامت کی تعریف کی اور پاکستان کی جموں و کشمیر کے حق خود ارادیت کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے عزم کو دوہرایا۔

Comments are closed.