جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی معاہدے کے بیشتر نکات پر عملدرآمد، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 172 ایف آئی آرز ختم کیں

20

اسلام آباد، 5 جنوری 2026:
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اس سلسلے میں 172 ایف آئی آرز ختم کر دی ہیں، جبکہ صرف سنگین نوعیت کی 15 ایف آئی آرز باقی رہ گئی ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو ایک ماہ ہی ہوا ہے، مگر انہوں نے کئی کابینہ اجلاسوں میں نکات پر عملدرآمد کیا ہے۔ معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران معطل کیے گئے ملازمین بحال کر دیے گئے اور معاوضہ جات کی ادائیگی کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پراپرٹی کے ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو بھجوا دیا گیا ہے، یو ایس ایف کے سی ای او اور بورڈ ممبران کی تعیناتی کی جا چکی ہے، دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دی گئی ہے، اور میڈیکل کالجز میں اس سال اوپن میرٹ کی پالیسی نافذ ہو گئی ہے۔ واٹر سپلائی سکیموں کے معاہدوں پر بھی عملدرآمد جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج طے شدہ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل آزاد کشمیر میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے خلاف ہے اور معاہدے کے عملدرآمد کو سست کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جو معاہدہ اکتوبر 2025 میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پایا تھا، اس کی تمام تفصیلات میڈیا کے سامنے شیئر کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ احتجاج میں تین انسانی جانوں کا نقصان ہوا تھا، اور ستمبر 2025 میں احتجاج کے دوران مزید ہلاکتوں کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان نے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں کے ذریعے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کی، اور ہدایات جاری کی گئیں۔ تاہم آج کی میٹنگ میں عوامی ایکشن کمیٹی نے بغیر اطلاع اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جس پر افسوس ظاہر کیا گیا۔

Comments are closed.