ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچستان گرینڈ الائنس نصیرآباد کی جانب سے ڈی آر اے سمیت دیگرجائز مطالبات تسلیم نہ ہونے پر حکومت کےخلاف  حتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ باقاعدہ طور پر شروع کردیا گیا

29

نصیر آباد نامہ نگار

ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچستان گرینڈ الائنس نصیرآباد کی جانب سے ڈی آر اے سمیت دیگرجائز مطالبات تسلیم نہ ہونے پر حکومت کےخلاف  حتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ باقاعدہ طور پر شروع کردیا گیا گرینڈ الائنس نصیرآباد کےڈویژنل صدرعبداللہ بلوچ کی قیادت میں ملازمین نے بازؤں پرسیاہ پٹیاں باندھ کرعلامتی احتجاج کیا اس موقع پر گرینڈ الائنس نصیرآباد کے جنرل سیکرٹری استاد مقبول احمد عمرانی۔ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صوبائی آڈیٹر جنرل آصف عظیم عمرانی۔ائریگشین ایپملائز یونین کے صدرسید ظہیر

شاہ۔آئریگیشن کے بابو نثار احمد چھلگری۔غوث بخش جمالی۔غلام مصطفی مہسر۔عبدالستارعمرانی۔غلام رسول ابڑو۔ایپکا ایجوکیشن کے صدر بابو محمد عالم بلیدی۔کوڑ خان ہانبھی ۔یعقوب لہڑی۔بابو برکت علی گولہ۔بشیراحمد مینگل۔منظور احمد جتک۔زراعت یونٹ کے صدر محمد یوسف ساسولی۔محمد حنیف بنگلزئی۔حاجی سعید احمد گجر۔بابو نیاز احمد ڈومکی۔الطاف حسین ابڑو۔اختر حسین گجر۔بی اینڈ آر کے سید امداد شاہ۔امان اللہ بلیدی۔ابراہیم بنگلزئی۔بابو رحیمداد بنگلزئی۔محکمہ صحت کے بابو اعظم بہرانی۔بابو خادم حسین بگٹی۔شفقت رند۔پیرامیڈیکس کے صدر کامریڈ نزیراحمد مستوئی۔محکمہ ریونیو کے حسین بخش جونیجو۔بابو شیراللہ کھوسہ۔رئیس پیر محمد سیال ۔بابو برکت علی سامت۔حاجی یعقوب مینگل۔منصور منگی۔سرفراز مجید۔صدام بنگلزئی۔بقاء عمرانی۔انفارمیشن کے بابو غلام حسین جمالی۔مجاہد حسین بھنگر۔محکمہ زکوات کے سنکدر علی گورشانی۔محمد اشرف بھٹو۔جی ٹئ اے آئینی کے میراحمد شاہد گرانی۔عطاء اللہ ساسولی۔محکمہ خوارک کے محمد اکبر سرپرہ۔سوشل ویلفیر کے بابو نور احمد عمرانی۔خلیل احمد ابڑو۔فشریز کے بابو غلام علی محمد حسنی۔مصدیق حسین۔۔غلام سرور بلیدی۔

پاپولیشن کے بابو قلندر بخش عمرانی۔اربن پلاننگ کےبابو نعیم احمد۔فاریسٹ کے بابو عبدالحق جاموٹ سمیت دیگر تنظموں کے رہنماوں نے اپنے اپنے دفاتر میں سیاہ پیٹیاں باندھ کر احتجاج کیا گرینڈ الائنس نصیرآباد کے ڈویزنل صدر عبداللہ بلوچ اور جنرل سیکرٹری استاد مقبول احمد عمرانی نے مخلتف دفاتر کا دورہ کرنے کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کی مسلسل ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے خلاف ملازمین سراپا احتجاج ہیں بلوچستان بھر میں لاکھوں سرکاری ملازمین گزشتہ چھ ماہ سے اپنے آئینی اور بنیادی حقوق کے لی احتجاج کررہے ہیں، مگر صوبائی حکومت نے نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا بلکہ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا، احتجاج کےدوران عبداللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی کی سفارشات وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی گئیں، جنہیں بار بار کابینہ ایجنڈے میں شامل کر کے نکال دیا جاتا رہا جو حکومتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ڈی آر اے ملازمین کا قانونی حق ہے اور اس پر مزید تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈی آر اے کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،  سرکاری ملازمین کے معاشی مسائل کا مستقل حل نکالا جائے، احتجاج میں شریک ملازمین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مثبت پیش رفت نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا کہ آئندہ مرحلے میں سخت لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور صوبائی سطح پر بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، مظاہرین نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کی جدوجہد پرامن، آئینی اور حق پر مبنی ہے اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Comments are closed.