پاکستان اور امارات کی اسٹریٹجک شراکت نئی بلندیوں کو رواں ہے۔دیوان فخرودین
کراچی ( ): ایف پی سی سی آئی یو اے ای بزنس کونسل کے چیئرمین دیوان فخرودین نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر امارات کی قیادت، عوام اور وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن نہ صرف امارات کے اتحاد اور ترقی کا اہم سنگِ میل ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں سے بھائی چارے، باہمی اعتماد، احترام اور وسیع معاشی تعاون کی بنیاد پر پروان چڑھتے آئے ہیں۔دیوان فخرودین نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات ہر گزرتے سال کے ساتھ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ دوطرفہ تجارت میں قابلِ ذکر اضافہ، سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع اور مشترکہ منصوبوں کا آغاز اس مضبوط رشتے کی روشن مثالیں ہیں۔ دیوان فخرالدین نے قونصل جنرل یو اے ای ” ڈاکٹر بخیت عتیق علی علیان الرمیتی ” کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کراچی میں ویزا فیسلیٹیشن سینٹر قائم کرکے کاروباری برادری کے لیے ایک نہایت اہم اور قابلِ قدر قدم اٹھایا ہے۔ اس مرکز کے قیام سے بزنس کمیونٹی کو ویزا کے حصول میں درپیش مشکلات کا مؤثر حل ملے گا اور کاروباری سرگرمیوں میں مزید سہولت پیدا ہوگی۔ ہم ان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس اقدام سے پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ توانائی، قابلِ تجدید توانائی، تعمیرات، بندرگاہی ڈھانچہ، زراعت، معدنیات، فوڈ سیکیورٹی، سپلائی چین اور لاجسٹکس کے شعبے دونوں ملکوں کے معاشی تعاون کے بنیادی ستون ہیں۔ یو اے ای کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جبکہ پاکستانی کاروباری حضرات اور سرمایہ کار بھی امارات میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیوان فخرودین نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امارات میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی اور معاشرتی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستانی انجینئرز، ڈاکٹرز، ماہرینِ تعمیرات، ٹیکنیشنز، کاروباری افراد اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے یو اے ای کی ترقی کا حصہ بن کر نہ صرف اپنا نام روشن کیا ہے بلکہ پاکستان کی پہچان کو بھی مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت میں ڈیجیٹل اکانومی، فِن ٹیک، ای کامرس، اسمارٹ ٹریڈ پلیٹ فارمز، گرین ٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، جدید زراعت اور فوڈ پروسیسنگ وہ شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان شاندار تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ یو اے ای کے مالیاتی ادارے پاکستان میں انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ، لاجسٹکس اور اسٹریٹجک سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ دیوان فخرودین نے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای نہ صرف اقتصادی میدان میں بلکہ علاقائی استحکام، امن، ترقی اور باہمی تعاون کے مشترکہ وژن کے حامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور کاروباری برادری، سرمایہ کاروں، اسٹارٹ اپس اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوتے رہیں گے۔دیوان فخرودین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بطور چیئرمین ایف پی سی سی آئی یو اے ای بزنس کونسل دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔



