حیدرآباد کا بدنام علاقہ — بی سیکشن منشیات فروشوں کا مرکز بن گیا

27

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

حیدرآباد— تھانہ بی سیکشن کی حدود میں منشیات فروشی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جہاں مبینہ طور پر منشیات ڈیلرز نے مکمل کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیلرز علاقے کو ٹھیکے پر چلا رہے ہیں اور کھلے عام منشیات کی ترسیل جاری ہے۔

ان عناصر کی پشت پناہی میں ہیروئن، آئس، چرس، کچی شراب، مضر صحت مین پوڑی، سفینہ اور زید 21 سمیت نشہ آور اشیاء باآسانی دستیاب ہیں، جس کے باعث نوجوان نسل تیزی سے نشے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ منشیات کے ساتھ ساتھ جوئے اور سٹے کے اڈے بھی سرگرم ہیں، جن کے نتیجے میں چوری، لڑائی جھگڑوں اور دیگر سماجی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ درجنوں لوگ ان غیرقانونی سرگرمیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔

پولیس کی مبینہ خاموشی نے عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کی چشم پوشی جرائم میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔

شہریوں نے آئی جی سندھ، ایس ایس پی حیدرآباد اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لے کر منشیات و جوئے کے اڈوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ علاقے کو جرائم کی لعنت سے نجات دلائی جا سکے۔

Comments are closed.