پنجاب حکومت کا زرعی ترقی کو مزید فروغ دینے کیلئے چین کیساتھ باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس

26

لاہور9دسمبر-پنجاب میں زراعت میں ترقی، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ چھ ایم او یو ہو دستخط کئے گئے،زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی مشینری میں تعاون کیلئے چین کیساتھ دو B2B ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔پنجاب میں ایگری تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کار کیلئے چین کیساتھ 3 ایم او یوز سائن کیے گئے۔ کسانوں کو اعلیٰ معیار کے بیج کی دستیابی کیلئے چین کیساتھ 1 ایم او یو پر دستخط ہوگئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی میں پیش رفت کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا اور پنجاب حکومت کا زرعی ترقی کو مزید فروغ دینے کیلئے چین کیساتھ باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیاگیا۔اجلاس میں گندم کاشت، کسان کارڈ اور زرعی مشینری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کھاد کی مسلسل فراہمی کا نیا ریکارڈ قائم،کھاد مہنگی ہوئی،نہ غائب، نہ بلیک ہوئی اور نہ ہی کمی ہوئی۔ فروری 2024 سے اب تک نہ ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہی فراہمی کمی ہوئی۔اجلاس میں مزید بتایاگیا پنجاب نے کم وقت گندم بوائی کا ٹارگٹ پوراکرلیا ہے اورپنجاب کو تمام صوبوں میں سب سے آگے نکلنے کا اعزاز حاصل ہوچکاہے۔پنجاب نے تمام صوبوں سے زیادہ 16.5 ملین ایکڑپر ریکارڈ گندم کاشت کی۔پنجاب میں گندم کے بیج کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے 27 فیصد اضافہ ریکارڈ قائم کیا۔پنجاب میں یوریا کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے 26 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا۔اجلاس میں مزید بتایاگیاکہ وزیر اعلی مریم نواز کے حکم پرپنجاب سیڈ کارپوریشن کے ہر تصدیق شدہ گندم بیج پر 500 روپے فی بیگ کی سبسڈی دی گئی۔پنجاب لے کسانوں کیلئے آسانی اور سہولت کا نیا باب،پہلی بار پنجاب کی تاریخ میں 8 لاکھ کسان کارڈ جاری، 250 ارب کے قرضے جاری ہوئے۔کاشتکاروں نے بیج کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی خریداری کیلئے،160 ارب روپے کے قرضے استعمال کیے۔کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب میں 96 فیصد قرض کی واپسی کا ریکارڈ قائم ہوا۔پنجاب کے ساوتھ ریجن میں 105 ارب روپے کے قرضے دیے گے۔8 فیصد کسان کارڈ ایک سے پانچ ایکڑ کے مالک چھوٹے کسانوں کو جاری کیے گئے۔6 فیصد کسانوں نے پہلی بار کسان کارڈ کے ذریعے بینکنگ اور رسمی مالی نظام سے فائدہ اٹھایا۔پنجاب کے کسانوں نے کسان کارڈ کے ذریعے 110 ارب روپے کی کھاد خریدی گئی۔پنجاب میں 66 ارب روپے کی میکنائزیشن کا پیداوار کے فرق کو ختم کرنے میں بڑا کردار ہے۔دو سال میں 25 ارب روپے کے 30,000 گرین ٹریکٹر سے کسانوں کو جدید سہولتیں فراہم کی گئیں۔پنجاب میں 25 ارب روپے کے ہائی ٹیک مشینری پروگرام سے جدید زرعی آلات کھیت تک پہنچ گئی۔10 ارب روپے کے 10,000 سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔پنجاب کے کسانوں کی سہولت کے لئے،6 ارب روپے کے 20 ہزار فارم لیول آلات،گرین ٹریکٹر فیز 2 کے 9,500 میں سے 8,554 کسانوں کو الاٹمنٹ لیٹر مل گئے،90 فیصد لیٹرز جاری ہوگئے۔گرین ٹریکٹر فیز 2 کے 5,030 ٹریکٹر تیار، 3,389 ٹریکٹر کسانوں کو فراہم کیے گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے ہائی ٹیک مشینری فنانسنگ پروگرام کے تحت 6,077 کسانوں نے رجسٹریشن کروائی۔چیف منسٹر ہائی ٹیک مشینری فنانسنگ پروگرام کے تحت 3,536 کسانوں نے مکمل درخواستیں جمع کروائیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کے ہائی ٹیک مشینری فنانسنگ پروگرام کے تحت 2,438 درخواستیں بینک آف پنجاب کو کریڈٹ فیصلہ کے لیے بھیجی گئیں۔ہائی ٹیک مشینری پروگرام میں 1,316 کسانوں نے ہارویسٹر کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔904 کسانوں نے ہائی ہارس پاور ٹریکٹر کے لیے درخواستیں دی۔پنجاب میں چاول کی کاشت میں سہولت اور پیداوار میں اضافہ کے لئے 169 کسانوں نے رائس ٹرانسپلانٹر کے لیے درخواستیں دی۔88 کسانوں نے اسٹرا بیلر کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔42 کسانوں نے ملٹی کروپ پلانٹر کے لیے درخواستیں دی۔وزیراعلیٰ پنجاب فارمز مشینری پروگرام کے تحت 5,000 سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔سپر سیڈرز کے ذریعے 12 لاکھ ایکڑ گندم کی کاشت مکمل ہوئے،5,000 کسان پی-کاپ پروگرام کے تحت منتخب ہوئے۔پنجاب میں ہر کھیت تک سہولت کی رسائی کے لئے تین سال میں 20,000 جدید فارم لیول ایمپلیمنٹس کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔38 اقسام کے آلات پر 68 فیصد سبسڈی فی جائے گی۔25 سو فارم لیول آلات کے لیے 12,000 درخواستیں موصول ہوئیں۔فارم لیول آلات کی تقسیم جنوری 2026 سے شروع ہوگی۔

Comments are closed.