10 دسمبر: انسانی حقوق کا عالمی دن اور کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی
مشتاق احمد بٹ
دنیا آج 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہی ہے—ایک ایسا دن جو انسانی حرمت، آزادی اور بنیادی حقوق کی عالمی حیثیت کا اعلان ہے۔ لیکن افسوس کہ جب نظر مقبوضہ جموں و کشمیر کی طرف اٹھتی ہے تو یہ دن اپنے ہی اصولوں کی نفی بنتا دکھائی دیتا ہے۔ بھارت—جو اقوام متحدہ کا رکن ملک اور متعدد عالمی معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے—کشمیر میں ایسے سنگین اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے جو نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہیں۔
کشمیر وہ خطہ ہے جہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کو ریاستی طاقت کے ذریعے مسلسل دبایا جا رہا ہے۔ دہائیوں سے بھارتی حکومت ان قراردادوں کو نظر انداز کر کے اپنی سفارتی اور قانونی ذمہ داریوں سے انحراف کر رہی ہے۔ ایک رکن ملک کی جانب سے ایسی کھلی خلاف ورزی نہ صرف عالمی اداروں کی ساکھ بلکہ بین الاقوامی انصاف کے ڈھانچے پر بھی گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔
کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال کسی جمہوری ملک کے اندرونی معاملے کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ ایک باقاعدہ ریاستی جبر ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ لاکھوں کشمیری شہید ہوئے، ہزاروں نوجوان معذوری کا شکار ہوئے، متعدد افراد ماورائے عدالت کارروائیوں کا نشانہ بنے، اور ہزاروں سیاسی رہنما، کارکن اور نوجوان بدترین قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔
جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اس خطے کا سب سے المناک پہلو بن چکا ہے۔ ہزاروں مردوں کے لاپتا ہونے نے ان کے اہلِ خانہ کو دہائیوں سے بے یقینی کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس ظلم کا سب سے بڑا بوجھ کشمیری خواتین پر پڑ رہا ہے جنہیں دنیا “نیم بیوائیں” (Half-Widows) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو نہ سوگ منا سکتی ہیں اور نہ نئی زندگی شروع کر سکتی ہیں—کیونکہ وہ آج تک نہیں جانتیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا شہید کر دیے گئے ہیں۔ یہ صورتحال محض انسانی حقوق کی پامالی نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔
بھارت کی جانب سے کشمیر کے مسلم تشخص کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی تیز ہو چکی ہیں۔ مذہبی آزادیوں پر قدغن، مساجد پر پابندیاں، ثقافتی اداروں کی کمزوری، اور زمینوں کی جبری ضبطی ایسے اقدامات ہیں جو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی خطے کی آبادیاتی ساخت کو زبردستی تبدیل کرنا صریح طور پر جنگی جرم ہے۔
پیلٹ گنز کے جارحانہ استعمال نے سینکڑوں نوجوانوں کی بینائی چھین لی۔ معاشی ڈھانچے کو تباہ کر دینے والی کارروائیوں نے وادی کی سماجی مزاحمت کو شدید متاثر کیا۔ یہ سب شواہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ محض سیکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ منظم ریاستی جبر کا حصہ ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو عالمی برادری کی خاموشی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر فوری ردعمل دینے والی بڑی طاقتیں کشمیر میں دہائیوں سے جاری سنگین صورتحال پر غیر معمولی خاموش ہیں۔ اگر بین الاقوامی قوانین طاقتور ریاستوں پر لاگو نہ ہوں تو عالمی انصاف اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی، انسانی حقوق کونسل اور عالمی طاقتیں خاموشی ترک کر کے بھارت سے جواب طلب کریں، کشمیر میں غیر جانب دار تحقیقات کروائیں، اور کشمیریوں کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مزید تاخیر نہ صرف ظلم کی حمایت ہوگی بلکہ عالمی انصاف کے پورے نظام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔
کشمیر کے عوام مسلسل جبر کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا مطالبہ نہ غیرقانونی ہے نہ غیر منطقی—بلکہ وہ صرف وہ حق چاہتے ہیں جسے اقوام متحدہ خود تسلیم کر چکی ہے۔ جب تک یہ حق پورا نہیں ہوتا، انسانی حقوق کا عالمی دن ایک ادھورا وعدہ رہے گا اور یہ سوال برقرار رہے گا کہ آیا انصاف واقعی سب کے لیے ہے یا صرف طاقتوروں کے لیے۔
Comments are closed.