تربت یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظفر علی کی شاندار تحقیقی کامیابی

32

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

تربت، 07 دسمبر 2025: یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ کیمسٹری کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر علی نے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس ان اینالیٹیکل کیمسٹری، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو سے پی ایچ ڈی مکمل کر لی ہے اور سائنسی تحقیق کے میدان میں متعدد نمایاں سنگ میل قائم کیے ہیں۔

پی ایچ ڈی کے دوران انہوں نے بین الاقوامی جرائد میں تحقیقی مقالات، ریویو پیپرز، لیٹرز ٹو ایڈیٹر اور بک چیپٹرز شائع کیے، جبکہ کیپرک ایسڈ سے بھرپور تیل کا پیٹنٹ بھی فائل کیا۔ جدید تحقیق کے عمل میں انہوں نے مکران کے علاقے تمپ کے کلبر پہاڑی سلسلے میں مزاری پام کی ایک نئی سپیشیز بھی دریافت کی، جو پاکستان کے نباتاتی ریکارڈ میں اہم اضافہ ہے۔

یہ اہم دریافت پاکستان نیشنل ہربیریم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر سلطان اور رائل بوٹینک گارڈنز، برطانیہ کے عالمی شہرت یافتہ پام ٹیکسونومسٹ ڈاکٹر جون ڈرانسفیلڈ کے اشتراک سے مکمل ہوئی۔ تحقیق سپرنجر نیچر کے معتبر جریدے Genetic Resources and Crop Evolution میں شائع ہوئی، جو عالمی سطح پر اس دریافت کی مضبوط توثیق ہے۔

اس نئی مزاری پام سپیشیز کو بلوچستان میں دریافت ہونے کی مناسبت سے نینوروپس بلوچستانیکا کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نینو روپس جینس میں دنیا کی دوسری ریکارڈ شدہ سپیشیز ہے—اس سے قبل صرف نینوروپس رچیانا ہی معروف تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت پلانٹ ٹیکسونومی میں ایک اہم اور گراں قدر اضافہ ہے۔

تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، فیکلٹی ممبران اور انتظامیہ نے ڈاکٹر ظفر علی کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی مہارت اور تحقیق کو یونیورسٹی میں اعلیٰ معیار کی ریسرچ سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کے لیے بروئے کار لائیں گے۔

Comments are closed.