خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کا اجلاس
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 41ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی پالیسی گائیڈ لائنز دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس کا واضح روڈ میپ دے چکی ہے اور سرکاری امور میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اجلاسوں میں آن لائن شرکت کو تر جیح دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سرکاری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزراء کی حالیہ پریس کانفرنس کو غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایسا رویہ عوام کو اشتعال دلانے اور جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ایک غیر سیاسی اور باپردہ خاتون ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گڈ گورننس اور شفافیت کے فروغ کے لیے صوبے کے تمام سرکاری، خودمختار اور نیم خودمختار اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے کی جائیں گی اور کسی بھی قسم کی سرکاری بھرتی نجی ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے نہیں ہوگی۔انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن کے حالیہ اجلاس میں صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے تمام شرکاء نے صوبے کے اصولی مؤقف کی تائید کی ہے، تاہم این ایف سی میں ضم اضلاع کا 1375 ارب روپے کا شیئر شامل نہ ہونا ایک سنگین ناانصافی ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے طورخم بارڈر کی 55 روز سے بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر کی ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ افراد کے لیے کھانے پینے اور تمام ضروری سہولیات کی فوری فراہمی کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سول افسران بالخصوص ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے اور ان کی خریداری میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔کابینہ کا 41 واں اجلاس جمعہ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اورایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی مخصو ص نشستوں کی تقسیم کار فارمولے، صوبے کی نئی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی، ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی رپورٹ، گندم کے ذخیرے اور خریداری سے متعلق امور، 9اور10 مئی کے سیاسی مقدمات کا معاملہ، خیبر پختونخوا شوکر کین اور شوگربیٹ بورڈ کی تشکیل،ترقیاتی سکیموں کی اضافی فنڈنگ اور دیگر فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ معاون خصوصی اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں سے متعلق تقسیم کار فارمولے میں جنوبی وزیر ستان کے دو اضلاع میں تقسیم ہونے کے بعد ان دواضلاع میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ مزید غور خوض اور مشاورت کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپرد کیا۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کریگی۔اسی طرح خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی بھی مزید غور و خوض کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپردکی گئی۔ شفیع جان نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا شوگر کین اور شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ 2025-26 کے لئے ملز کے نمائندوں کے ناموں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو صوبے میں گندم کے ذخیرے اور بین الصوبائی نقل و حمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی جس پر کابینہ نے پہلے سے متعین کردہ کمیٹی کو اضافی گندم کی خریداری کے معاملے میں بوقت ضرورت اقدامات اٹھانے کا اختیار دے دیا۔اجلاس میں کڈنی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے دو مریضوں کے علاج کے لئے مالی امداد کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پلان اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز کے تحت فنڈز کی فرہمی کی منظوری دی گئی تاکہ جاری منصوبوں کو جلد از مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سی ٹی ڈی کے لئے 150 ملین روپے سپشل گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ معاون اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کابینہ اجلاس میں پیش کی گئیں جن پر عمل درآمد کی کابینہ نے منظوری دے دی۔اجلاس میں ریڈیو پاکستان پشاورکے واقعہ کی انکوائری کا معاملہ صوبائی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے سپرد کرنے کے بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اور 10 مئی کو سیاسی انتقام کے تحت جو مقدمات درج کئے گئے ہیں اور جن کے ثبوت بھی دستیاب نہیں ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔
Comments are closed.