“ری امیجِننگ ساؤتھ ایشیا” کے عنوان سے آئی ایس ایس آئی اسلام آباد کانکلیو 2025 اختتام پذیر—دو روزہ سیشنز میں سیکیورٹی، معیشت، ماحول اور کنیکٹیویٹی پر جامع گفتگو

26

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

“ری امیجِننگ ساؤتھ ایشیا” کے عنوان سے آئی ایس ایس آئی اسلام آباد کانکلیو 2025 اختتام پذیر—دو روزہ سیشنز میں سیکیورٹی، معیشت، ماحول اور کنیکٹیویٹی پر جامع گفتگو

اسلام آباد— انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے سالانہ ڈائیلاگ فورم اسلام آباد کانکلیو کے پانچویں ایڈیشن کا اختتام ہوگیا۔ دو روزہ کانفرنس کا مرکزی موضوع تھا:
“ری امیجِننگ ساؤتھ ایشیا: سیکیورٹی، معیشت، ماحول، کنیکٹیویٹی”۔
اختتامی سیشن کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ سفیر انعام الحق تھے۔

اختتامی سیشن میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر سہیل محمود نے افتتاحی اجلاس اور پانچ ورکنگ سیشنز کے کلیدی نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مقررین اور شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ “ری امیجِننگ ساؤتھ ایشیا” نہایت بروقت اور اہم موضوع ہے۔ بحث و مباحثے نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی، ترقی اور علاقائی تعاون کی مسلسل کمی خطے کی مجموعی استعداد کو محدود کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازعات، بڑھتی جیو پولیٹیکل کشیدگی، حل طلب مسائل، اور مئی 2025 جیسے بحران اس عدم استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔

سفیر سہیل محمود کے مطابق کانکلیو کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ خطے کو محاذ آرائی سے تعاون، زیرو سم سے ون-ون فریم ورک کی طرف جانا ہوگا، اور ادارہ جاتی تعاون، معاشی انضمام، کنیکٹیویٹی اور موسمیاتی لچک پر مبنی نئے علاقائی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کا نیا تصور تراش کر بہتر مستقبل تشکیل دے سکیں۔ انہوں نے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کے اس پیغام کا بھی حوالہ دیا کہ بدلتی حقیقتوں کے مطابق علاقائی تعاون کا نظام ازسرِنو تشکیل دینا ناگزیر ہے۔

اپنے آخری خطاب میں (بطور ڈی جی آئی ایس ایس آئی) انہوں نے ادارے کی تین سالہ ذمہ داری کے دوران مکمل تعاون پر چیئرمین، ریسرچ ٹیم اور اسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔

مہمانِ خصوصی سفیر انعام الحق نے اپنے خطاب میں آئی ایس ایس آئی کی کوشش کو سراہتے ہوئے عالمی نظم، جیو پولیٹیکل تبدیلیوں، تکنیکی انقلاب اور معاشی حرکیات پر گہرا تجزیاتی خطاب پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن، امریکہ کی برتری، چین کے ابھار اور روس کی دوبارہ فعالیت کے باعث عالمی نظام کس سمت جائے گا—یونی پولر، G2 یا ملٹی پولر—اس پر ابھی قطعیت سے نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے پاکستان کی چین کے ساتھ دیرینہ اسٹریٹجک شراکت کو اہم قرار دیتے ہوئے اسے قابلِ اعتماد، مشترکہ ترقی، ٹیکنالوجی اور کنیکٹیویٹی پر مبنی مضبوط تعلق کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی دنیا اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

جنوبی ایشیا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی عدم انضمام، کمزور کنیکٹیویٹی، اور مشترکہ سیکیورٹی ڈھانچے کے فقدان کو بنیادی چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی ترقی مضبوط اداروں، جامع ترقیاتی حکمت عملی، انسانی ترقی، موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل صلاحیت اور اقتصادی تنوع سے مشروط ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی استحکام — مضبوط معیشت، آبادی کے دباؤ پر قابو، صحت و تعلیم میں سرمایہ کاری، اور اچھی حکمرانی — پاکستان کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

ووٹ آف تھینکس پیش کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر خالد محمود نے شرکاء، مقررین اور پینلسٹس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانا عالمی نظام ٹوٹ رہا ہے جبکہ نیا نظام ابھی تشکیل پا رہا ہے — اور کانکلیو نے ان پیچیدگیوں کو بخوبی اجاگر کیا۔

دو روزہ کانفرنس میں سفارتی حلقوں، جامعات، تھنک ٹینک کمیونٹی، سول سوسائٹی، پالیسی ماہرین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانکلیو نے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور اشتراکِ ترقی کے لیے نئے اور مشترکہ علاقائی راستوں کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments are closed.