لندن میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی بھارتی انٹیلی جنس آفیسرز سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

27

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

لندن کے پوش علاقے مے فیئر کے معروف دی ڈورچیسٹر ہوٹل میں 23 نومبر کی شام ہونے والی ایک خفیہ ملاقات نے پاکستان کے خلاف جاری ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ اس خفیہ بیٹھک میں پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری، جہانگیر چیکو، انیل مسرت اور شہزاد اکبر شریک ہوئے، جبکہ دوسری جانب بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکار موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی نمائندوں نے زلفی بخاری کو 1 لاکھ پاؤنڈ کی رقم فراہم کی، ساتھ ہی اُن کے حوالے سوشل میڈیا ڈرافٹس، جعلی الزامات، فوٹو شاپ شدہ مواد اور وہ تمام ڈیجیٹل پیکجز کیے گئے جنہیں پی ٹی آئی سے منسلک ایکٹو اکاؤنٹس اور منظم ٹرول فارمز کے ذریعے پھیلایا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت جعلی ویڈیوز، ایڈیٹڈ تصاویر، گمراہ کن پوسٹس اور نام بدل کر چلنے والے X اکاؤنٹس کے ذریعے مربوط پراپیگنڈا مہم چلائی جانا تھی۔

اس مہم کا بنیادی ہدف پاکستان کی وہ عسکری قیادت تھی جس نے مئی میں بھارتی منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔ چونکہ پی ٹی آئی پہلے ہی ایسی آن لائن مہمات میں سرگرم تھی، اس لیے دونوں کے مفادات یکجا ہوگئے—بھارت کا بدلہ، اور پی ٹی آئی کی داخلی سیاسی نفرت۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ملاقات کے دوران ایک اور خاموش گواہ بھی موجود تھا—نہ رپورٹر، نہ تجزیہ کار بلکہ ایک ایسا شخص جس نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے خود کو پسِ پردہ رکھا۔ اسی فرد نے ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج، داخلی ریکارڈز، رسائی کے لاگز اور وقت سے منسلک تمام شواہد حاصل کر لیے، جو اس سازش کے ناقابلِ تردید ثبوت کے طور پر سامنے آچکے ہیں۔

یہ انکشافات اس بات کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف بیرونِ ملک بیٹھ کر چلائی جانے والی منفی مہمات نہ صرف منظم ہیں بلکہ باقاعدہ مالی تعاون اور اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے تحت چل رہی ہیں۔

Comments are closed.