وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب

26

اسلام آباد  وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال، جیل ملاقاتوں کے قواعد، دفاعی تعیناتیوں اور تحریک انصاف کی حالیہ پالیسیوں سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنی بین الاقوامی پالیسیوں کے تابع ہیں اور حکومت غیر ضروری یا غیر سنجیدہ بیانات سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قانونی کارروائی کی ضرورت ہو، وہاں ملکی قوانین کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔وزیر قانون نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بانی تحریک انصاف سے ملاقات کی خواہش کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کوئی سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلوں کا مجاز نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس نوعیت کے معاملات میں امیدواروں کے ٹکٹس بھی کالعدم قرار دیے گئے جنہیں بعد ازاں آزاد امیدوار قرار دیا گیا۔اعظم نذیر تارڑ نے جیل قوانین کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قیدی سیاسی گفتگو کرنے کا مجاز نہیں اور ملاقاتیں سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کی تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں اور اگر سپرنٹنڈنٹ کو ایسا خدشہ ہو کہ گفتگو امن و امان پر اثر انداز ہوسکتی ہے تو وہ ملاقات روکنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکیل اور مؤکل کی گفتگو ذاتی نوعیت کی ہوتی ہے مگر سیاسی ایجنڈا تشکیل دینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے دفاعی تعیناتیوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والی اصلاحات کے تحت اعلیٰ عسکری عہدوں کی سروس کی مدت تین برس سے بڑھا کر پانچ برس کر دی گئی ہے اور دوبارہ تقرری کی گنجائش بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تقرریاں مکمل طور پر آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جائیں گی اور اس حوالے سے کوئی ابہام موجود نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب اور وفاق ایک ہی نظام کا حصہ ہیں اور دونوں حکومتیں اپنی سیاسی قیادت سے رہنمائی لیتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کی جیل میں ملاقاتوں کے دوران سختیاں تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے خود عائد کی تھیں اور قانونی ملاقات کے حق کے حصول میں بھی تاخیر کی گئی تھی، جس کے باوجود عدالت نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی تھی کہ ملاقات کی تفصیلات میڈیا پر نہ دی جائیں۔وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے خود اسمبلیاں توڑیں، خود انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور خود ہی داخلی سطح پر غلطیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الیکشن کی تاریخ پر اتفاق ہو چکا تھا تاہم اسے اچانک ویٹو کر کے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس کی خلاف ورزی پر ریاست کارروائی کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام قانون کے تحت ہی اقدامات کر رہے ہیں اور کوئی شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت سب برابر ہیں۔tca

Comments are closed.