FOSPAH آرٹ ایگزیبیشن: “ورک پلیس ہراسمنٹ — خاموشی توڑیں”

23

 اسلام آباد، 01 دسمبر 2025: وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسمنٹ (  نے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے اشتراک سے “ورک پلیس ہراسمنٹ — خاموشی توڑیں” کے عنوان سے ایک آرٹ ایگزیبیشن کا انعقاد کیا۔ تقریب میں ملک بھر سے فنکار، طلبہ، پروفیشنلز اور حقوقِ انسانی کے نمائندے شریک ہوئے، تاکہ ہراسمنٹ پر بات چیت کو فروغ دیا جا سکے، ذمہ داری کا احساس بڑھے اور محفوظ ورک پلیس کی اہمیت اجاگر ہو۔

ایگزیبیشن میں 250 سے زائد انٹریز شامل تھیں، جنہیں تین کیٹیگریز — ہینڈ میڈ پوسٹرز، ڈیجیٹل آرٹ اور شارٹ ویڈیوز — میں پیش کیا گیا۔ شرکا نے تخلیقی فن کے ذریعے ہراسمنٹ کے مسائل کو بے خوفی سے اجاگر کیا اور متاثرین کی آواز کو سامنے لایا۔ جیوری میں صبا ضیا، نوشابہ ناز، اور سارہ راجپر شامل تھیں۔

معزز وفاقی محتسب محترمہ فوزیہ وقار نے کہا: “آگاہی پہلا قدم ہے۔ ایسی سرگرمیاں ہمیں خاموشی توڑنے اور مل کر تبدیلی لانے میں مدد دیتی ہیں۔”

مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر قانون و انصاف، اعظم نذیر تارڑ نے محفوظ اور باعزت ورک پلیس کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب میں اعلیٰ حکام، سفارتکار، سول سوسائٹی، میڈیا اور نوجوان فنکار شریک ہوئے، جن کی موجودگی نے ایونٹ کی اہمیت بڑھائی اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اجتماعی عزم کو اجاگر کیا۔

FOSPAH نے اپنے مینڈیٹ پر عمل جاری رکھنے اور ملک بھر میں ورک پلیس ہراسمنٹ کے خاتمے کے لیے آگاہی، رسائی اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Comments are closed.