کیڈٹ کالج وانا حملہ — دہشتگرد افغان شہری، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، سیکورٹی ذرائع

18

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 13 نومبر 2025

سیکورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے، جنہوں نے کارروائی کے دوران افغانستان سے موصول ہونے والی ہدایات پر عمل کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور اسے مکمل کرنے کا حتمی حکم خارجی نورولی محسود نے دیا۔ منصوبہ بندی میں مرکزی کردار خارجی زاہد نے ادا کیا۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ نورولی محسود نے حملے کی ذمہ داری “جیش الہند” کے نام سے قبول کرنے کا حکم دیا تاکہ فتنہ الخوارج (TTP) کی اصل شناخت چھپائی جا سکے۔ حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں بھی دہشتگرد بار بار “جیش الہند” کا نام لیتے دکھائی دیے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ وہ اپنی اصل شناخت ظاہر نہ کریں، کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

آڈیو ریکارڈنگ میں سنا گیا ہے کہ دہشتگرد اردو میں گفتگو کرتے ہوئے کئی بار “جیش الہند” کا حوالہ دے رہے تھے تاکہ ان کی افغان شناخت سامنے نہ آئے۔

حملے کے لیے تمام سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق اس حملے کا اصل مقصد پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کو ہوا دینا تھا، جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی ہدایت پر کیا گیا۔

سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حملے میں مارے گئے دہشتگردوں کی شناخت سے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے تحت آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

Comments are closed.