منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی — وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بڑے سپلائرز اور مینوفیکچررز کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہدایت
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 13 نومبر 2025
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں منشیات کی تیاری، ترسیل اور فروخت کے خلاف مربوط کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایت دی کہ منشیات کے بڑے سپلائرز، مینوفیکچررز اور ڈیلرز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ “منشیات کی لعنت جامعات تک پہنچ چکی ہے، ہم مزید غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے، نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔”
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہیروئن اور آئس جیسے مہلک نشہ آور مواد کا جڑ سے خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تیاری اور ترسیل کے خلاف مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے اور تمام متعلقہ محکموں و اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ کارروائی زیادہ مؤثر ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف سلیپر سیلز پر کارروائی کافی نہیں، بلکہ بڑے نیٹ ورکس کو توڑنا ہوگا۔ “منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں، مگر بلاوجہ کسی کو تنگ نہ کریں — کارروائی خالصتاً حقائق اور شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی لیکن نتائج کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ضبط شدہ منشیات کو فوری تلف کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ “یہ کسی صورت دوبارہ مارکیٹ میں نہیں آنی چاہییں۔”
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے محکمہ ایکسائز فورس کو مستحکم بنانے کے لیے 55 کروڑ روپے لاگت کے مجوزہ پلان کی منظوری بھی دی۔ منصوبے میں آپریشنل استحکام، جدید آئی ٹی آلات کی خریداری اور تربیتی پروگرامز شامل ہوں گے۔
مزید برآں، وزیر اعلیٰ نے غیرمجاز اور ریٹائرڈ افسران سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے لیے پالیسی پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ تعاون نہ کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
Comments are closed.