کابل: طالبان حکومت کی پاکستان پر تجارتی انحصار ختم کرنے کی ہدایت، متبادل منڈیوں کی تلاش پر زور
اسلام آباد(رپورٹ:ایم-الیاس ملاخیل) : افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے بدھ کے روز افغان تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان پر تجارتی انحصار کم کرتے ہوئے متبادل راستے اور نئی منڈیاں تلاش کریں۔
کابل میں تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملا برادر نے کہا کہ افغانستان کو اپنی تجارت کو محدود راستوں اور انحصار سے نکال کر وسیع دائرے میں لے جانا چاہیے تاکہ ملک کی معیشت زیادہ خودمختار اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو سکے۔
مبصرین کے مطابق یہ بیان طالبان حکومت کی اُس پالیسی تبدیلی کی علامت ہے جس کے تحت کابل، پاکستان کے بجائے وسطی ایشیائی ریاستوں، ایران اور چین جیسے متبادل تجارتی شراکت داروں کی طرف اپنا رخ کر رہا ہے۔
ممکنہ اثرات
1. سرحدی تجارت میں کمی:
اگر افغان حکومت اپنی تجارتی توجہ پاکستان سے ہٹا لیتی ہے تو تورخم، چمن اور غلام خان جیسے سرحدی مقامات پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاجروں اور مزدوروں کے روزگار پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
2. درآمدات و برآمدات میں رکاوٹ:
افغانستان طویل عرصے سے پاکستان سے خوراک، ادویات، تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء درآمد کرتا آیا ہے۔ ان اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹ افغان مارکیٹ میں قلت اور مہنگائی کا باعث بن سکتی ہے۔
3. پاکستانی معیشت پر اثر:
پاکستان کے لیے افغانستان ایک اہم برآمدی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کاروباری طبقے کا بڑا انحصار افغان تجارت پر ہے۔ تجارتی حجم میں کمی سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
4. متبادل تجارتی راستے:
افغان حکومت متبادل تجارتی راستوں پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں ایران کی بندرگاہ چاہ بہار، ترکمانستان کے راستے وسطی ایشیائی منڈیاں، اور ازبکستان کے ساتھ جاری ریل و سڑک منصوبے شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کی یہ پالیسی نہ صرف افغانستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے بلکہ خطے کے تجارتی توازن اور پاکستان کے اقتصادی مفادات پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتی ہے۔
Comments are closed.