آئی ایس ایس آئی میں کتاب کی تقریبِ رونمائی — “شوکت مرزیوئیف: اصلاحات اور علاقائی یکجہتی کا ایک عظیم رہنما

22

اسلام آباد (پریس ریلیز):
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے ازبکستان کے سفارت خانے کے تعاون سے “شوکت مرزیوئیف: اصلاحات اور علاقائی یکجہتی کا ایک عظیم رہنما” کے عنوان سے کتاب کی شاندار تقریبِ رونمائی کی میزبانی کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کھچی تھے۔

دیگر مقررین میں سفیر سہیل محمود، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی؛ ڈاکٹر طلعت شبیر، ڈائریکٹر چائنا پاکستان اسٹڈی سینٹر؛ ازبکستان کے سفیر علیشیر طہتائیف؛ مصنف ڈاکٹر محمود الحسن خان؛ میجر جنرل (ر) سید خالد امیر جعفری، صدر سینٹر فار ساؤتھ ایشیا اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز؛ اور بحریہ یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر آدم سعود شامل تھے۔

تقریب کا آغاز پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانوں سے ہوا، جس کے بعد شوکت مرزیوئیف، صدرِ جمہوریہ ازبکستان کی خدمات و کامیابیوں پر مبنی ویڈیو پیش کی گئی۔

ڈاکٹر طلعت شبیر نے اپنے تعارفی کلمات میں ڈاکٹر محمود الحسن خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب صدر مرزیوئیف کی دور اندیش قیادت اور ازبکستان کے اصلاحاتی سفر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور علاقائی روابط کے مشترکہ وژن پر بھی روشنی ڈالی۔

سفیر سہیل محمود نے مصنف کے بصیرت افروز اور جامع مطالعے کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر مرزیوئیف کی قیادت میں ازبکستان نے داخلی طرزِ حکمرانی، معیشت، اور خارجہ پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے ازبک صدر کے جدیدیت پر مبنی وژن، تعلیم، روزگار اور غربت میں کمی کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے ٹرانس افغان ریلوے اور سورخان–پلِ خمری پاور ٹرانسمیشن منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے ازبکستان کی علاقائی تعاون میں فعال کردار پر بھی زور دیا۔

سفیر سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ایمان، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط رشتے موجود ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے “وژن سینٹرل ایشیا” کے تحت پاکستان کے پانچ نکاتی فریم ورک — سیاسی و سفارتی، تجارتی و اقتصادی، توانائی و رابطہ کاری، سلامتی و دفاع، اور ثقافتی و عوامی تبادلے — پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک، کاسا-1000 اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے خطے میں رابطہ کاری اور ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2026 میں مغلیہ سلطنت کے قیام کی 500ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان و ازبکستان کو مشترکہ تقریبات منعقد کرنے کی تجویز بھی دی۔

مہمانِ خصوصی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ یہ کتاب صدر مرزیوئیف کی وژنری قیادت کو خراجِ تحسین ہے، جن کے اصلاحاتی اقدامات نے ازبکستان کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ خطے میں خوشحالی کی نئی راہیں کھول رہا ہے۔

ازبک سفیر علیشیر طہتائیف نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط دوستی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دونوں ممالک کے درمیان علمی و فکری تعاون کی علامت ہے اور ازبکستان کی معاشی و سماجی اصلاحات کا احاطہ کرتی ہے۔

ڈاکٹر محمود الحسن خان نے اپنی کتاب کے بارے میں کہا کہ یہ ازبکستان کے اصلاحاتی ماڈل، ترقیاتی وژن اور علاقائی انضمام کی کامیاب کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں 39 مختلف شعبوں میں ہونے والی اصلاحات اور پاکستان-ازبکستان تعلقات کے گہرے ہوتے رشتے کو بیان کیا گیا ہے۔

میجر جنرل (ر) سید خالد امیر جعفری نے کہا کہ صدر مرزیوئیف کے وژن کے تحت “نیا ازبکستان” کھلے پن، جدیدیت، اور عالمی انضمام کی سمت بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اقتصادی اصلاحات، انفراسٹرکچر، قابلِ تجدید توانائی، اور انسانی وسائل کی ترقی کو اجاگر کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر آدم سعود نے کہا کہ صدر مرزیوئیف کی قیادت میں ازبکستان کی فی کس آمدنی دوگنی ہو گئی ہے، جو مضبوط معیشت کی علامت ہے۔ انہوں نے تعلیمی و تحقیقی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے طلبا و محققین کو کتاب کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی۔

تقریب میں سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم، تھنک ٹینک کے محققین، اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Comments are closed.