گورنر خیبرپختونخوا سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 27ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی ملاقات

22

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

پشاور، 7 نومبر 2025:

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 27ویں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے آج گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ انالائزز (ISSRA) میجر جنرل رضا ایزد نے کی۔

ورکشاپ کے شرکاء میں اراکینِ پارلیمنٹ، ماہرینِ تعلیم، بیوروکریسی، بزنس کمیونٹی، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل تھے۔

شرکاء نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، ضم اضلاع کے مسائل، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں اور سرحد پار جارحیت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی قربت کے باعث صوبہ براہِ راست متاثر ہوتا ہے، جبکہ متعدد دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ اور مہمان نوازی فراہم کی ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے آئین و قانون کو نہ ماننے والوں کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائے۔ گورنر نے کہا کہ “انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا”۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں، حالیہ کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پھٹنے کے واقعات اس کے ثبوت ہیں۔

گورنر نے کہا کہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے سے صوبے کی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاریخی مقامات مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں، اس شعبے میں سنجیدہ اقدامات اٹھا کر صوبے میں امن و ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.