بلوچستان حکومت کا اہم اقدام نوعمر قیدیوں کے لیے الگ ماڈل جیل کی منظوری، 75 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہوگی

15

 کوئٹہ بلوچستان حکومت نے نوعمر قیدیوں کے تحفظ، بحالی اور اصلاح کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نوعمر قیدیوں کے لیے الگ ماڈل جیل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ محکمہ جیل خانہ جات بلوچستان کی سفارش پر منظور کیا گیا، جس کا مقصد نوعمر قیدیوں کو بالغ مجرموں کے اثرات سے محفوظ رکھ کر انہیں بہتر تعلیمی، نفسیاتی اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان کے مطابق، ماڈل جیل کی تعمیر پر 75 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ جیل میں جدید اسکول، پیشہ ورانہ تربیت کا مرکز، کونسلنگ یونٹس اور تفریحی سہولیات شامل ہوں گی۔ جیل کی عمارت سینٹرل جیل کوئٹہ کے قریب تعمیر کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور بہتر طریقے سے سرانجام دیے جا سکیں۔ترجمان نے بتایا کہ جب تک یہ عمارت مکمل نہیں ہوتی، سریاب روڈ پر ایک عارضی مرکز قائم کر دیا گیا ہے جہاں فوری طور پر نو عمر قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نوعمر قیدیوں کو بالغ قیدیوں کے ساتھ رکھنے سے پیدا ہونے والے ذہنی اور اخلاقی نقصانات سے بچانا ہے۔محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق، یہ منصوبہ اصلاحات پر مبنی جیل نظام کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات اور بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن سے مطابقت رکھتا ہے۔سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام کو بلوچستان حکومت کا انسان دوست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم نوعمر قیدیوں کی اصلاح، تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضمانت بنے گا۔

Comments are closed.