کاس اسلام آباد میں “مصنف کی گفتگو” — پاکستان بھارت تعلقات: ٹوٹا ماضی، غیر یقینی مستقبل پر فکری نشست
اسلام آباد، 8 اکتوبر 2025 (اسٹاف رپورٹر):
سنٹر فار ائیرواسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CASS)، اسلام آباد کے زیراہتمام حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب “Pakistan-India Relations: Fractured Past, Uncertain Future” کے موضوع پر ایک فکری نشست “Author’s Talk” منعقد ہوئی۔
کتاب کے مصنف اور سابق سفیر اعزاز احمد چوہدری (ریٹائرڈ) نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخی نوعیت، قیامِ امن میں حائل رکاوٹوں، اور مستقبل میں تعلقات کی بحالی کے ممکنہ راستوں پر جامع اظہارِ خیال کیا۔
تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور سیکیورٹی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔ کاس، جو قومی سلامتی اور پالیسی ریسرچ کے میدان میں ایک معتبر تھنک ٹینک کے طور پر شہرت رکھتا ہے، ایسے علمی مباحث کا باقاعدگی سے اہتمام کرتا ہے۔
سیشن کی میزبانی ائیر کموڈور رضا حیدر (ریٹائرڈ)، ڈائریکٹر CASS، نے کی، جنہوں نے افتتاحی کلمات میں ادارے کی نئی سیریز “Author’s Talk” کا تعارف کرایا۔ انہوں نے دو اہم سوالات اٹھائے کہ قیادت کی کوششوں کے باوجود پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیوں مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، اور مستقبل میں ان تعلقات کا رخ کیوں غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
کلیدی مقرر سفیر اعزاز احمد چوہدری (ریٹائرڈ) نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی چار بنیادی وجوہات بیان کیں:
1️⃣ تاریخی عدم اعتماد،
2️⃣ تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے علاقائی تنازعات بشمول جموں و کشمیر،
3️⃣ نائن الیون کے بعد بھارت کی جانب سے ’’سرحد پار دہشت گردی‘‘ کے بیانیے کا استحصال، اور
4️⃣ ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی علاقائی بالادستی کی خواہش۔
انہوں نے پاکستان کے لیے مستقبل میں چار اہم اقدامات تجویز کیے، جن میں بھارت سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا، کسی بھی مہم جوئی کے خلاف مضبوط دفاعی تیاری برقرار رکھنا، روایتی سیکیورٹی سے جامع سلامتی حکمتِ عملی کی طرف منتقلی، اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو فعال طور پر اجاگر کرنا شامل ہیں۔
سیشن کے اختتام پر ائیر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ)، صدر CASS، نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتاب “Pakistan–India Relations: Fractured Past, Uncertain Future” نے مئی 2025 میں ہونے والے پاک بھارت فوجی تصادم کے بعد مزید اہمیت اختیار کر لی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے بیانیے کو عالمی فورمز پر مؤثر اور مدلل انداز میں پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے 2019 اور مئی 2025 کے پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔
Comments are closed.