ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ بلوچستان کی زیر صدارت جی ڈی اے کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس — 150 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن اور جدید واٹر اسٹوریج ٹینک مکمل
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
کوئٹہ/گوادر، 19 اکتوبر 2025:
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ بلوچستان زاہد سلیم کی زیر صدارت گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے مختلف ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً بزنس پلان اور واٹر پروجیکٹ کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان اور چیف انجینئر حاجی سید محمد نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور وفاقی حکومت کے تعاون سے جاری منصوبوں کی مالی و فزیکل پیشرفت پر بریفنگ دی۔
ڈی جی جی ڈی اے نے بتایا کہ واٹر سپلائی منصوبے کے تحت 11 ارب روپے کی لاگت سے شادی کور سے چاوڑ ڈگار اور وہاں سے گوادر ایئرپورٹ واٹر اسٹیشن تک تقریباً 150 کلومیٹر طویل مین ٹرانسمیشن لائن بچھائی گئی ہے۔ چاوڑ ڈگار کے مقام پر جدید واٹر اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جہاں اعلیٰ معیار کی پمپنگ مشینری نصب ہے اور اس کے لیے علیحدہ بجلی فیڈر فراہم کیا گیا ہے۔
ایئرپورٹ واٹر اسٹیشن پر 70 لاکھ گیلن، سینٹرل پارک میں 10 لاکھ گیلن، سٹی واٹر اسٹیشن میں 20 لاکھ گیلن اور کوہ بن میں 2 لاکھ گیلن کے جدید واٹر اسٹوریج ٹینک تعمیر کیے گئے ہیں۔ شہر کے اندر تقریباً 150 کلومیٹر طویل ڈسٹریبیوشن لائن بھی مکمل ہو چکی ہے جو بتدریج فعال ہو رہی ہے۔
ڈی جی جی ڈی اے نے مزید بتایا کہ بزنس پلان کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے ابتدائی دس سالوں میں 25 ارب روپے فراہم کیے جانے تھے، جن میں سے 15 ارب روپے موصول ہو چکے ہیں۔ ان فنڈز کے موثر استعمال سے جی ڈی اے نے گوادر کے خدوخال بدل دیے ہیں، 280 کلومیٹر سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، پارکس، گراؤنڈز، جیٹیز اور دیگر منصوبوں کی تکمیل سے شہر میں ترقی، خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کو فروغ ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بزنس پلان کے دوسرے مرحلے میں معاشی، سماجی اور سیاحتی نوعیت کے نئے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ گوادر کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت سے باقی فنڈز کے اجراء کے لیے فوری رابطہ کیا جائے تاکہ ترقیاتی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ جی ڈی اے اپنے نئے منصوبوں کی کنسلٹنسی، ڈیزائن اور فیزیبلٹی رپورٹس جلد مکمل کر کے وفاقی حکومت کو ارسال کرے تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی کے بعد ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
Comments are closed.