خیبرپختونخوا حکومت کا جعلی صحافیوں، نان رجسٹرڈ چینلز اور ڈمی اخبارات کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

18

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

پشاور، 16 اکتوبر 2025 (خصوصی رپورٹ: فیاض علی نور — فری لانس جرنلسٹ):
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں پیمرا سے نان رجسٹرڈ چینلز، ڈمی اخبارات اور پی ڈی ایف اخبارات کے نام پر سرگرم جعلی صحافیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق، محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا نے اس مقصد کے لیے قوانین میں ترامیم اور نئے ضوابط تیار کر لیے ہیں جن کے تحت صرف وہی افراد ریجنل انفارمیشن آفس (RIO) سے تصدیق شدہ ہونے کی صورت میں صحافی تسلیم کیے جائیں گے۔

اس اقدام کا مقصد ایسے غیر رجسٹرڈ، جعلی اور خودساختہ “صحافیوں” کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا ہے جو مختلف سرکاری یا عوامی مقامات پر خود کو میڈیا کا نمائندہ ظاہر کر کے پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

نئے ضوابط کے مطابق، اگر کوئی غیر تصدیق شدہ شخص پولیس کارروائی، احتجاج یا عوامی مقام پر مداخلت، ریکارڈنگ یا براہِ راست سوال کرنے کی کوشش کرے تو موقع پر گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ پولیس کو اس سلسلے میں مائیک، پریس کارڈ، لوگو اور موبائل فون ضبط کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔

محکمہ اطلاعات کے مطابق، صحافیوں کی تصدیق کا عمل اب صرف متعلقہ ریجنل انفارمیشن آفس سے ہی ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان میں پہلی بار محکمہ کی ویب سائٹ پر آن لائن تصدیق کا نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ڈی جی آئی پی آر کی منظوری سے صحافیوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ غیر تصدیق شدہ، جعلی یا زائدالمعیاد پریس کارڈ رکھنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید برآں، محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا نے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کا ابتدائی مسودہ (ڈرافٹ) تیار کر کے محکمہ قانون کو ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس پالیسی کے تحت آن لائن پلیٹ فارمز، یوٹیوب چینلز، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا جرنلسٹس کو بھی سرکاری اشتہارات، سرٹیفیکیشن اور دیگر مراعات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

محکمہ اطلاعات کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صحافت کو پیشہ ورانہ، شفاف اور منظم بنانا ہے تاکہ عوام تک مصدقہ، ذمہ دارانہ اور معیاری خبریت پہنچائی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کریک ڈاؤن میڈیا کی آزادی محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ شعبہ صحافت کی ساکھ اور وقار کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.