پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برآمدی صنعتوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے، تجارتی خسارہ کم کرنے کی نئی حکمت عملی تیار
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
لاہور، 14 اکتوبر :
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے وزارتِ صنعت و پیداوار (MoIP) کی زیرِ نگرانی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی خسارہ کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کی نئی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔
سمیڈا ہیڈ آفس لاہور میں وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان صنعتی شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جو سعودی عرب کے لیے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے اور درآمدی متبادل کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اجلاس میں سی ای او سمیڈا سقرات امان رانا سمیت سینئر افسران اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ بعض افسران نے آن لائن شرکت کی۔
وفاقی سیکرٹری سیف انجم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے 2035 تک ملکی برآمدات کو 120 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ پر مبنی اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ سیکٹرز کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی برآمدات اور سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ لا سکتے ہیں۔
سمیڈا کے سی ای او سقرات امان رانا نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی و صنعتی تعاون کے لیے ابتدائی طور پر چمڑے کے جوتے، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، کٹلری، ٹیکسٹائل اور ملبوسات جیسے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ صنعتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو مزید وسعت دی جائے تاکہ ممکنہ نئے شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات 734 ملین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 4.47 ارب ڈالر ہیں، جس سے 3.37 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ اس توازن کو بہتر بنانے کے لیے سمیڈا نے ایک پانچ سالہ صنعتی ترقی اور تجارتی تنوع کی حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت صنعتی جدیدیت اور مخصوص سیکٹرز کی اپ گریڈیشن کی جائے گی۔
یہ حکمتِ عملی پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات دوگنی کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ 25 فیصد کم کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہے، جس میں اسٹریٹجک تعاون، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید برآں، ایک نیا پروگرام بھی تجویز کیا جا رہا ہے جس کے تحت سعودی عرب کی بڑی ریٹیل، ہیلتھ کیئر اور اسپورٹس گڈز کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے جائیں گے تاکہ ویلیو چین کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ابتدائی مشاورت کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کٹلری (وزیرآباد)، سرجیکل آلات (وزیرآباد)، ٹیکسٹائل (فیصل آباد)، کھیلوں کا سامان (سیالکوٹ) اور چمڑے کے جوتے (کراچی و لاہور) میں مشترکہ منصوبوں کے مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ اقدامات دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ وژن کے مطابق ہیں، جن کا مقصد غیر تیل تجارت کو فروغ دینا، صنعتی تعاون کو وسعت دینا اور ایس ایم ایز کو پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بنانا ہے۔
Comments are closed.