جرمنی ، لاک ڈائون کیخلاف احتجاج، درجنوں افراد گرفتار

0 33

برلن: جرمنی میں ایک عرصے سے جاری لاک ڈائون کے خلاف ایک ہزار سے زائد افراد نے احتجاج کیا اور احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔دارالحکومت برلن میں ایک ہزار سے زائد افراد نے لاک ڈان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی جہاں حکام کی جانب سے انتباہ جاری کیے جانے کے باوجود مستقل چند ہفتوں سے اس احتجاج کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج میں بائیں بازوں کے افراد کی اکثریت موجود تھی لیکن حیران کن طور پر اس مرتبہ احتجاج میں دائیں بازو کے افراد بھی موجود تھے۔مظاہرین کو آگے بڑھتا دیکھ کر پولیس نے لگزمبرگ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں جس کے بعد شرکا قریبی سڑکوں پر جمع ہونے لگے۔پولیس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر کی روشنی میں یہ احتجاج جاری کردہ ہدایات اور قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔چند مظاہرین نے شرٹ زیب تن کر رکھی تھیں جس میں چانسلر اینجلا مرکل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے جبکہ دیگر افراد لاک ڈان سے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔اس کے علاوہ چند افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جس میں درج تھا کہ ادویات بنانے والی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جائے۔ان مظاہرین نے وائرس سے لاحق خطرات کو مسترد کرتے ہوئے لاک ڈائون اور ایمرجنسی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جرمنی میں بھی لاک ڈان کے باعث عوام کی بے چینی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ان مطالبات کے باوجود جرمنی میں چانسلر اینجلا مرکل کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.