وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت گوادر میں پانی و بجلی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ — موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت

20

اسلام آباد/گوادر، 6 اکتوبر 2025:
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال کی زیرِ صدارت گوادر میں پانی اور بجلی کے بحران سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈویلپمنٹ) بلوچستان زاہد سلیم، چیف آف کیسکو سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) نورالحق بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) معین الرحمن خان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس میں گوادر میں پانی اور بجلی کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے اقدامات کے باعث بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم شہر کو سنگین پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بارشیں نہ ہونے کے سبب گوادر کے بڑے ذخائرِ آب آنکاڑہ ڈیم اور سوڈ ڈیم خشک ہو چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ شادی کور ڈیم لائن کو ساڑھے تین سال بعد فعال کیا گیا ہے جس سے روزانہ 10 تا 12 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ جی پی اے واٹر ڈسیلینیشن پلانٹ سے روزانہ 5 تا 6 لاکھ گیلن پانی شہر کی پرانی آبادیوں کو مہیا کیا جا رہا ہے۔

اب بھی اتنی ہی پانی کی کمی درپیش ہے جسے پورا کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر جی ڈی اے نے ہنگامی بنیادوں پر ضلع کیچ کے میرانی ڈیم سے ٹینکرز کے ذریعے فراہمی شروع کر دی ہے۔ ٹینکروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ چند روز میں صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ جیونی، پشکان اور مضافاتی علاقے بھی پانی کی قلت سے متاثر ہیں۔

چیئرمین جی پی اے نے پائیدار حل کے طور پر میرانی ڈیم سے پائپ لائن بچھانے اور نئے ڈسیلینیشن پلانٹس کی تنصیب کی تجاویز پیش کیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ بحران پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جی پی اے واٹر ڈسیلینیشن پلانٹ کو مکمل استعداد پر چلانے کے لیے چینی ماہرین اور انجینئرز سے چینی سفارتخانے کے ذریعے فوری رابطہ کیا جائے تاکہ پلانٹ کو فل کیپسٹی پر فعال کیا جا سکے۔

مزید بتایا گیا کہ وزارتِ توانائی نے گوادر میں بجلی کے استحکام کے لیے Integrated System Plan تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر پاور پلانٹس اور متبادل توانائی کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ کیسکو نے 40 تا 45 میگاواٹ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے شنٹ ریئیکٹرز، آٹو وولٹیج ریگولیٹرز اور پولیمر انسولیٹرز کی تنصیب سمیت فوری اقدامات کیے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت دی کہ پانی اور بجلی سے متعلق تمام منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور واٹر اسٹڈی کے ذریعے مستقبل کی ضروریات کے مطابق طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ گوادر کو پانی کے بحران سے مستقل نجات دلائی جا سکے۔

Comments are closed.