چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا فیصلہ

22

چمن (سید سردار محمد خوندئی)
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت آئی ایف آر پی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبداللہ چیمہ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چمن سمیت صوبے کے مختلف علاقوں سے اب تک وطن واپس بھیجے گئے افغان باشندوں کی تفصیلات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چمن نے کہا کہ کل سے رحمان کہول روڈ، گلدارہ باغیچہ، شین تالاب اور دیگر ملحقہ علاقوں میں ڈور ٹو ڈور کمپین شروع کی جائے گی، جس کے دوران تمام گھروں میں رہائش پذیر فیملیز کے شناختی کارڈز چیک کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو غیر قانونی افغان باشندوں سے مکمل طور پر کلیئر کرایا جائے گا۔

ڈی سی چمن نے مزید بتایا کہ آج کے بعد قومی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر افغان باشندوں کو بغیر شناختی دستاویزات کے گرفتار کر کے واپس افغانستان ڈیپورٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور لیویز فورس کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چمن سرحد زیرو پوائنٹ پر قائم ہولڈنگ کیمپ میں افغان شہریوں کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ انہیں عارضی قیام کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

ڈپٹی کمشنر چمن نے خبردار کیا کہ چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام افغان باشندے از خود وطن واپس چلے جائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 1,88,977 افغان باشندے بابِ دوستی کے راستے افغانستان واپس بھیجے جا چکے ہیں، اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔

Comments are closed.