خیبرپختونخوا کی سیاست میں ہلچل — لیک دستاویزات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا
تحریر: خوشحال خان
پشاور — خیبرپختونخوا کی سیاست ایک بار پھر تنازعات اور بے یقینی کے بادلوں میں گھِر گئی ہے۔ صوبائی اسمبلی کے رکن عبدالغنی آفریدی سے منسوب حالیہ لیک شدہ دستاویزات نے نہ صرف سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی نگرانی کے نظام اور سیکیورٹی خدشات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
ان مبینہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض سیاسی حلقے بیرونی نیٹ ورکس سے روابط میں رہے۔ اگرچہ ان دستاویزات کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں، تاہم ریاستی اداروں نے ان رپورٹس کو قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے سنجیدگی سے لیا ہے اور ذرائع کے مطابق اس معاملے کی باضابطہ جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
عبدالغنی آفریدی کا سیاسی ردعمل
ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے ایک بیان میں تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ “یہ محض سیاسی انتقام ہے۔” تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا ردعمل سیاسی طور پر دفاعی حکمتِ عملی کے سوا کچھ نہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو ان کی شفاف تردید کے لیے واضح ثبوت پیش کیے جانے چاہئیں۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری اور کردار
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کے تحت ہر اُس سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں منظم جرائم، اسمگلنگ اور منشیات کے نیٹ ورکس پر سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق خیبر، جمرود اور باڑہ کے علاقوں میں حالیہ مہینوں میں کیے گئے آپریشنز اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن میں کئی مشتبہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف کچھ لوگ عبدالغنی آفریدی کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں، دوسری جانب شہری حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی سیاسی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں اس وقت “ریاست بمقابلہ بیانیہ” کی ایک نئی کشمکش جنم لے چکی ہے، جہاں اداروں کا مؤقف ہے کہ “قانون سب کے لیے برابر ہے۔”
نتیجہ — قانون کی بالادستی اور قومی مفاد اولین
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو اندرونی استحکام اور بیرونی خطرات کے دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایسے میں ریاستی اداروں کا متحرک اور منظم رہنا ناگزیر ہے۔
اگر سیاست میں غیر ریاستی اثرات یا بیرونی روابط کی چھان بین کی جا رہی ہے تو یہ نہ سیاسی انتقام ہے نہ سازش — بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت ایک ضروری عمل ہے۔
عبدالغنی آفریدی کے خلاف الزامات درست ہوں یا نہ ہوں، مگر یہ واضح ہے کہ ریاست اب کسی بھی ایسے نیٹ ورک کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں جو قانون، امن یا ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بنے۔
Comments are closed.