متحدہ سیاسی و سماجی جماعتوں کا 11 اکتوبر کے احتجاجی مظاہرے سے بائیکاٹ کا اعلان

17

چمن (سید سردار محمد خوندئی بیوروچیف) — چمن کی مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 11 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہیں کریں گی۔
یہ اعلان گزشتہ روز چمن پریس کلب میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مظلوم اولسی تحریک، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ (ق)، جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی)، ویښ زوانان، بارکزئی قومی اتحاد، بلال زئی قومی اتحاد، انجمن معذوران اور دیگر سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر احتجاج میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ کچھ ناگزیر وجوہات کے باعث ہم اس احتجاجی تحریک میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم جلد ہی چمن پاک افغان بارڈر کی بندش، افغان مہاجرین کی جبری بیدخلی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

سیاسی رہنماؤں نے واضح کیا کہ چمن بارڈر کی بندش سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں اور پشتون عوام کے روزگار کے مواقع ختم کیے جا رہے ہیں، جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے پاسپورٹ رجیم ختم کرنے اور عوام کو شناختی کارڈ اور تذکرہ پر آمدورفت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہم اس مسئلے پر ماضی میں بھی تعمیری کردار ادا کر چکے ہیں اور اب افغان باشندوں کی جبری ملک بدری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو جلد ہی بھرپور احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔

Comments are closed.