آج بی این پی قائد سردار اختر جان مینگل اپنے خلاف دہشت گردی کیس میں عدالت میں پیش ہوے ، ان کے ہمراہ ان کے وکیل اور پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ بھی پیش ہوے۔
اے ٹی سی کورٹ کوئٹہ:
آج بی این پی قائد سردار اختر جان مینگل اپنے خلاف دہشت گردی کیس میں عدالت میں پیش ہوے ، ان کے ہمراہ ان کے وکیل اور پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ بھی پیش ہوے۔
عدالت میں سردار اختر جان نے کہا کہ کیا اس ملک میں کوئی دفعہ ایسا ہے جو دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی اجازت دیتا ہے اگر کوئی کسی کے لیے دعا کرے؟
سسٹم کی ستم ظریفی اور مذاق یہ ہے کہ دھرنے کے دوران بی این پی قیادت پر بم دھماکہ کیا گیا اور ایف آئی آر بھی سردار اختر جان مینگل کے خلاف درج کرائی گئی۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں ایف آئی آر کے بارے میں مہینوں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور سردار اختر جان کو مفرور ظاہر کیا گیا جس سے حکومت کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔
اس موقع پر سینئر وکیل جمیل رمضان ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی دلائل دیئے۔
سردار اختر جان مینگل کی ضمانت منظور ، سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی
یاد رہے کٹھ پتلی حکومت نے چھوٹی چریا کے میزبان بایزید خان کو انٹرویو دینے پر سردار اختر جان مینگل کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی رہنما اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ، حاجی بابو رحیم مینگل، جمال مینگل، حاجی وحید بلوچ سینئر وکیل اسد اچکزئی ایڈووکیٹ اور وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔
Comments are closed.