چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے ملاقات
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے آج سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے ایک اہم ملاقات کی جس میں بینظیر نشوونما پروگرام اور سندھ حکومت کے جاری صحت کے اقدامات کے درمیان اسٹریٹجک تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں زچہ و بچہ کی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے خدمات کو مربوط کرنے پر زور دیا گیا۔ بالخصوص حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں خون کی کمی کے تدارک، غذائی سپلیمنٹس تک بہتر رسائی اور سندھ بھر میں آبادی سے متعلق مشاورتی خدمات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل CCT/NSER بی آئی ایس پی ڈاکٹر عاصم اعجازنے گیٹس فاؤنڈیشن کے آئندہ اقدام کے بارے میں بریفنگ دی، جس کا مقصد حاملہ
اور دودھ پلانے والی خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد اور ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صوبے میں غذائی قلت اور ماں و بچے کی صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور زیادہ وسیع رسائی اور اثرات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر بی آئی ایس پی کے سماجی تحفظ کے پلیٹ فارم کو محکمہ صحت سندھ کے وسائل کے ساتھ مربوط کر کے صحت عامہ کے چیلنجز کا مؤثر اور کثیر الجہتی حل یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر نشوونما پروگرام کے مثبت اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ کہ یہ پروگرام حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو مشروط نقد مالی معاونت اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خدمات کی رسائی کو بڑھایا جا سکے اوردونوں جانب سے ایک جیسے اقدامات پر بلا ضرورت حکومتی وسائل کے استعمال سے بچا جاسکے۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے سندھ حکومت بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں زچہ و بچہ کی صحت کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے صحت کی پائیدار اور مؤثر خدمات کی فراہمی کے لیے حکومتی کاوشوں کے ساتھ نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
Comments are closed.