چینی ماہرین کا پاکستان میں تل کی نئی اقسام متعارف کرانے کا اعلان

15

اسلام آباد، 11 ستمبر  : چین کے زرعی ماہرین نے پاکستان میں تل کی نئی اقسام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو مقامی طور پر تیار کی گئی ہیں اور بڑے پیمانے پر کاشت کے بعد اب پاکستان میں مزید جانچ کے لیے لائی جائیں گی تاکہ بہترین جراثیمی مواد (جرم پلازم) کی نشاندہی ہوسکے۔

چین اکنامک نیٹ (CEN) سے گفتگو کرتے ہوئے ہیوبے ٹیکنیکل مارکیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر یوان گو باؤ نے کہا کہ چین میں تل کی کھپت سال بہ سال بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستانی کسانوں اور برآمدکنندگان کے لیے لامحدود مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں سالانہ تل کی کھپت تقریباً 15 لاکھ ٹن ہے، جس میں سے 12 لاکھ ٹن درآمد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی تل کی پیداوار اور چین کو برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

یوان گو باؤ نے کہا کہ تل ایک خشک سالی برداشت کرنے والی اور قلیل مدت میں تیار ہونے والی فصل ہے، جو پاکستان کے محدود پانی اور زرعی زمین کے حالات کے لیے موزوں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیج بونے کے جدید مشینری اور مخصوص جڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال سے پاکستانی کسانوں کی محنت کم اور پیداوار زیادہ ہوگی۔

پاکستان میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران تل کی پیداوار 455 فیصد بڑھ کر 11.19 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ چین کو برآمدات میں 327 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ایک ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔

Comments are closed.