پنجاب حکومت کی غیر آئینی پابندی نے خیبرپختونخوا میں گندم و آٹے کا بحران کھڑا کر دیا

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 9 ستمبر 2025: صوبائی وزیر خوراک خیبرپختونخوا، ظاہرشاہ طورو نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے اور کسی قسم کی کمی کا خدشہ نہیں۔ تاہم، پنجاب حکومت کی غیر آئینی پابندی کے باعث خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کو گندم و آٹے کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کی وجہ سے قیمتوں میں وقتی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یہ بات انہوں نے پشاور میں صوبے میں گندم اور آٹے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ خوراک شاہ محمود، ایڈیشنل سیکرٹری اشفاق احمد، ڈائریکٹر فوڈ محسن اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبہ بھر کے اضلاع میں سرکاری گوداموں میں گندم کے ذخائر اور آٹے و گندم کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری فوڈ نے وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کو سالانہ 5.3 ملین میٹرک ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جس میں 1.4 ملین میٹرک ٹن صوبے کی اپنی پیداوار ہے جبکہ باقی ضرورت دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب سے پوری کی جاتی ہے۔ موجودہ وقت میں محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں میں تقریباً 0.273 ملین میٹرک ٹن گندم ذخیرہ ہے اور ملک بھر میں خاص طور پر پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں۔ اجلاس کے دوران وزیر کو یہ بھی بتایا گیا کہ گندم کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور بہت جلد مزید کمی متوقع ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کی غیر آئینی پابندی نے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ دیگر صوبوں کے عوام کو متاثر کیا ہے، اور بالخصوص غریب طبقہ اس کے اثرات بھگت رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ اقدام واپس لیا جائے اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کو گندم و آٹے کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ آٹے کی قیمتوں میں کمی آئے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
مزید برآں، وزیر خوراک نے اجلاس کے شرکاء کو ہدایت کی کہ مستقبل میں اس طرح کے حالات سے بچنے کے لیے ایک منظم نظام اور جامع حکمت عملی مرتب کی جائے اور متعلقہ فورمز پر سفارشات پیش کی جائیں تاکہ غریب اور کمزور طبقے کو ہر صورت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ افسران کو بھی ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی پر سخت نگرانی کی جائے اور اگر کسی کو ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بلا تاخیر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔




