پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے،

26

‎پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، آج چین کے اشتراک سے تیار کردہ چوتھا زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کیا گیا۔

‎‏‎اس تاریخی موقع پر چین میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔

‎‏‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آج کا دن صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ قومی وقاراور پاکستان و چین کی دوستی کو آسمانوں سے بھی بلند کرنے کا لمحہ ہے۔سیٹلا ئیٹ پاکستانی قوم کے لیے امید اور عزم کی علامت ہے۔

‎‏‎احسن اقبال نے کہا کہ آج ہم محض ایک سیٹلائٹ نہیں، بلکہ ایک وژن لانچ کر رہے ہیں۔ ایک ایسا وژن جو پاکستان کو خلائی سائنس میں قائدانہ مقام پر لے جانے کے عزم سے عبارت ہے، جو جدت، عالمی باہمی تعاون اور قومی خود اعتمادی سے مزین ہے۔

‎‏‎ انہوں نے کہا کہ 2035 تک پاکستان کا اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجنے کے ہدف سے پاکستان کو عالمی خلائی معیشت میں ایک اہم فریق کےطور پر کلیدی حیثیت حاصل ہوگی

‎‏‎ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا خلائی سفر کوئی نیا آغاز نہیں ہے۔ 1961 میں سپارکو کے قیام کے ساتھ ہی پاکستان نے ترقی پذیر ممالک میں سب سے پہلے خلائی تحقیق کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس میدان میں قدم رکھا۔

‎‏‎انہوں نے کہا کہ بدر-1 (1990)، پاک ٹیس ون اے (2018)، پاک سیٹ-1 آر (2011)، اور حالیہ پاک سیٹ ایم ایم ون 2024 کےبعد آج کا نیا سیٹلائٹ اس طویل جدوجہد کا تسلسل ہے۔

‎‏‎احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی، جو پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی کہلاتی ہے، آج خلا میں بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

‎‏‎انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کے ہر شعبے میں قابلِ اعتماد شراکت دار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ چاہے وہ دفاع ہو، معیشت ہو یا انفراسٹرکچر۔ سی پیک کے ذریعے ہم نے سڑکیں، توانائی کے منصوبے اور صنعتی زونز قائم کیے جو پاکستان کی معاشی ترقی کی بنیاد بنے۔ اب خلائی تعاون کے ذریعے ہم اس شراکت داری کو نئے افق تک لے جا رہے ہیں۔

‎‏‎احسن اقبال نے مزید کہا کہ رواں سال کے آغاز میں الیکٹرو-آپٹیکل سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجا گیا جس سے ہماری سیٹلائٹ فلیٹ میں اضافہ ہوا۔
پاک سیٹ ون اور پاک سیٹ ایم ایم ون نے ملک
‎میں کمیونیکیشن، براڈکاسٹنگ اور ڈیجیٹل رابطے کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔

‎‏‎وفاقی وزیر نے کہا کہ آج لانچ ہونے والا یہ سیٹلائٹ پاکستان کی ریموٹ سینسنگ، نقشہ سازی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا، خوراک کے تحفظ، شہری ترقی اور سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی میں مدد فراہم کرے گا۔

‎‏‎ چینی اداروں بومی ٹیک، سی ای ٹی سی انٹرنیشنل اور مائیکرو سیٹ کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کی ایک کامیاب اور شاندار مثال ہے، جسے غیر معمولی رفتار اور درستگی کے ساتھ مکمل کیا گیا جو ہماری باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری کا نمایاں اور روشن ثبوت ہے

‎‏‎انہوں نے کہا کہ عالمی خلائی معیشت 2040 تک ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی، اور پاکستان چین کے تعاون اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سیٹلائٹ نیٹ ورک میں وسعت، تحقیق و تعلیم میں سرمایہ کاری، مشترکہ خلائی مشنز اور خلائی صنعت کی ترقی کے ذریعے اس معیشت میں اپنا حصہ یقینی بنائے گا۔

‎‏‎وفاقی وزیر نے تمام انجینئرز، سائنسدانوں اور ٹیم ممبرز کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی محنت سے یہ خواب حقیقت بنا۔

‎احسن اقبال نے کہا کہ جدت اور باہمی تعاون ہماری پیشرفت کی بنیاد ہے اور عزم وہ ایندھن ہے جو ہمیں نئی جہتوں کی جانب لے جاتا ہے۔ انہی سنہری اصولوں کی روشنی میں پاکستان اور چین نہ صرف چاند کو سر کریں گے بلکہ مریخ کی وسعتوں تک اپنی موجودگی کا پرچم بھی بلند کریں گے

Comments are closed.